بھارت

بھارت :اترپردیش میں حکام نے ہندو انتہاپسندوں کے احتجاج کے بعد مدرسے کو مسمارکردیا

لکھنو: بی جے پی کے زیر اقتدار بھارتی ریاست اتر پردیش میں ہندو انتہا پسندوں کی جانب سے ایک مسلم اکثریتی گاو¿ں میں قائم ایک مدرسے کے خلاف احتجاج کے صرف ایک دن بعد حکام نے مدرسے کو منہدم کر دیا ۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق ضلع اناو¿ کے گاو¿ں اسونیہ میں واقع مدرسے کو بھاری تعداد میں پولیس کی موجودگی میں بلڈوزروں سے ملبےکے ڈھیرمیں تبدیل کردیا گیا۔یہ کارروائی ہند و انتہاپسند تنظیم بجرنگ دل کے احتجاجی مظاہرے کے بعد کی گئی جس نے مدرسے پر سرکاری زمین پر غیر قانونی قبضے کا الزام لگاتے ہوئے اسے فوری طور پر مسمار کرنے کا مطالبہ کیاتھا۔حکام نے دعویٰ کیا کہ مدرسہ تقریباً 0.835 ہیکٹر سرکاری اراضی پر تعمیر کیا گیا تھا جو ریونیو دستاویزات میں کھیل کے میدان کے طور پر درج ہے۔تاہم انہدامی کارروائی بجرنگ دل کے کارکنوں کی طرف سے مقامی حکام کو پیش کی گئی یادداشت اور احتجاج کے فوراً بعد کی گئی۔ یادداشت میں فوری کارروائی کے لیے دباو¿ ڈالا گیا اور تاخیرکی صورت میں نتائج کے لئے تیار رہنے کی دھمکی دی گئی تھی۔ کارروائی کے نتیجے میں اسونیا گاو¿ں کے رہائشی ایک تعلیمی ادارے سے محروم ہوگئے جہاں علاقے کے بچے برسوں سے تعلیم حاصل کررہے تھے۔مقامی مسلمان دیکھتے ہی رہ گئے جب پولیس کے پہرے میں مدرسے کے کلاس رومز اور عمارت کو ملبہ کا ڈھیر بنادیاگیا۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button