بھارت

لداخ:بھارت کی وعدہ خلافیوں کے خلاف مکمل ہڑتال

لہہ: غیر قانونی طور پر بھارت کے زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کے خطے لداخ میں لہہ اپیکس باڈی اور کرگل ڈیموکریٹک الائنس کی کال پر منگل کو مکمل ہڑتال کی گئی، جس سے ایک بار پھربھارت کی پالیسیوں اور کشمیریوں کے سیاسی، آئینی اور معاشی مطالبات کو نظر انداز کرنے کے خلاف عوامی بے چینی اور غم و غصے کی عکاسی ہوتی ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق ہڑتال کی وجہ سے لہہ اور کرگل اضلاع میں معمولاتِ زندگی بری طرح متاثر رہے جبکہ بازار، تجارتی مراکز، کاروباری ادارے اور دکانیں بند رہیں۔ ہڑتال کی کال لہہ اپیکس باڈی اور کرگل ڈیموکریٹک الائنس نے 22مئی کو نئی دہلی میں ہونے والے مذاکرات کے دوران بھارتی حکومت کی جانب سے کرائی گئی یقین دہانیوں پر عملدرآمد میں تاخیر کے خلاف احتجاج کے طور پردی تھی ۔دونوں تنظیموں کے لیڈروں کاکہنا ہے کہ مذاکرات کے دوران طے پانے والی اہم مفاہمتوں کو سرکاری ریکارڈ میں درست طور پر شامل نہیں کیا گیا جبکہ لداخ کے سیاسی مستقبل سے متعلق کئی اہم نکات کو یا تو نظر انداز کر دیا گیا یا مناسب طورپراندراج نہیں کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس صورتحال نے نئی دلی کی نیت اور وعدوں کے بارے میں عوامی شکوک و شبہات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔احتجاجی تحریک کے مرکزی مطالبات میں آئینی تحفظات، زمین اور روزگار کے حقوق کا تحفظ، مقامی آبادی کی حکمرانی کے عمل میں موثر شمولیت اور لداخ کی منفرد شناخت، ثقافت اور قدرتی وسائل کے تحفظ کے لیے عملی اقدامات شامل ہیں۔ انہوں نے کہاکہ بار بار یقین دہانیوںکے باوجود بھارتی حکومت ان مطالبات کوماننے کے لیے کوئی بامعنی پیش رفت نہیں کر سکی ہے۔
مبصرین کے مطابق ہڑتال میں عوام کی بھرپور شرکت اس بات کاثبوت ہے کہ لداخ کے عوام میں مایوسی اور بے اعتمادی مسلسل بڑھ رہی ہے۔ احتجاج اس خدشے کی بھی نشاندہی کرتا ہے کہ نئی دلی کی پالیسیاں خطے کی مقامی خودمختاری کو کمزور کر رہی ہیں اور عوامی خواہشات کو پسِ پشت ڈال رہی ہیں۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button