کشمیر ی بیوائیں اور نصف بیوائیں مسلسل کرب و اذیت کی زندگی گزارنے پر مجبور

سرینگر:غیر قانونی طور پر بھارت کے زیرِ قبضہ جموں و کشمیر میں بھارتی فوجیوں کی طرف سے جاری نہتے کشمیریوں کے قتل عام اور دوران حراست گمشدگیوں کی وجہ سے کشمیری خواتین کی بڑی تعداد بیوائوں اور نصف بیوائوں کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں ۔
کشمیر میڈیا سروس کی جانب سے بیوہ خواتین کے عالمی دن کے موقع پرجاری ایک رپورٹ کے مطابق مقبوضہ جموں و کشمیر میں خواتین تنازعہ کشمیر کے المناک اثرات مسلسل برداشت کر رہی ہیں، جبکہ گزشتہ 37برس کے دوران بیوائوں اور نصف بیوائوں کی تعداد میں تشویشناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔رپورٹ کے مطابق جنوری 1989سے رواں سال 31مئی تک بھارتی ریاستی دہشت گردی کی وجہ سے 22ہزار991کشمیری خواتین بیوہ ہوئی ہیں۔ اس عرصے کے دوران 10ہزار سے زائد کشمیریوں کو بھارتی فوجیوں نے حراست کے دوران لاپتہ کیا جبکہ 2 ہزار سے زائد خواتین نصف بیوائوں کی زندگی گزارنے مجبور ہیں کیونکہ ان کے شوہروں کا آج تک کوئی اتہ پتہ معلوم نہیں ہو سکا ہے ۔رپورٹ کے مطابق ضلع کپواڑہ کا گائوں دردپورہ اس انسانی المیے کی ایک دردناک مثال ہے، جہاں تقریبا 200خواتین ایسی ہیں جن کے شوہر بھارتی فوجیوں کی حراست میں لاپتہ ہو گئے ہیں۔بیوہ خواتین کاعالمی دن ان کشمیری بیوائوں اور نصف بیوائوں کی حالت زار کی یاد دہانی کراتا ہے جو برسابرس سے انصاف کی منتظر ہیں۔ مسلسل غیر یقینی صورتحال، جدائی، غم اور محرومی سے بہت سی خواتین شدید ذہنی اور نفسیاتی اذیت سے دوچارہیں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں بیوائوں اور نصف بیوائوں کی بڑی تعداد اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ مقبوضہ علاقے میں گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران سنگین انسانی المیے رونما ہوئے ہیں جن کے اثرات آج بھی ہزاروں خاندانوں کی زندگیوں پر مرتب ہو رہے ہیں۔رپورٹ میں عالمی برادری پر زور دیا گیا ہے کہ وہ کشمیری بیوائوں اور نصف بیوائوں کے دکھ،درد، صدمات اور مشکلات کو فراموش نہ کرے اور ان کے لیے انصاف، تحفظ اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر موثر اقدامات کو یقینی بنانے میں اپنا کردار ادا کرے۔






