مقبوضہ کشمیر : یاسین ملک اورچاردیگر افراد کے خلاف جھوٹے مقدمے میں چارج شیٹ دائر
سرینگر: غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیرکے تحقیقاتی ادارے ایس آئی اے نے 36سال پرانے ایک جھوٹے مقدمے جموںو کشمیر لبریشن فرنٹ کے غیر قانونی طورپر نظربند چیئرمین محمد یاسین ملک اور چار دیگر افراد کے خلاف چارج شیٹ دائر کر دی ہے ۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق ایس آئی اے نے کشمیری پنڈت نرس ”سرلا بھٹ”کے اغوا اور قتل کے جھوٹے مقدمے میں 36برس بعدیاسین ملک اورچار دیگر افرادکو ملزم قرار دیتے ہوئے انکے خلاف سرینگر کی خصوصی عدالت میں737صفحات پر مشتمل چارج شیٹ دائر کی ۔ایس آئی اے کے ایک ترجمان نے کہاہے کہ یہ کیس 18مارچ 2024کو ایس آئی اے کو منتقل کیا گیا تھا۔چارج شیٹ کے مطابق سرلا بھٹ کو 18اپریل 1990کو سرینگر کے صوراانسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنز سے اغوا کیا گیا تھا۔اسے شدید تشدد کے بعد عمر کالونی، سرینگر میں گولی مارکر قتل کردیاگیاتھا۔ایس آئی اے کی طرف سے دائر کی گئی چارج شیٹ میں شامل دیگر چار افراد میں جے کے ایل ایف کے رہنماء عبدالحمید شیخ، غلام محمد، محمد یوسف اور خورشید احمد چالکوشامل ہیں ۔ عبدالحمید شیخ اور محمد یوسف1990کی دہائی میں جبکہ غلام محمد 2018میں وفات پاچکے ہیں ۔
یاد رہے کہ یاسین ملک کو دلی کی ایک عدالت نے ایک جھوٹے میں عمر قید کی سزا سنائی تھی اور وہ اس وقت نئی دلی کی بدنام زمانہ تہاڑ جیل میں قید ہیں ۔بھارتی تحقیقاتی ادارے این آئی اے نے یاسین ملک کی عمر قید کی سزا کو پھانسی میں تبدیل کرنے کیلئے عدالت میں ایک درخواست دائر کر رکھی ہے جس پر سماعت جاری ہے ۔








