سندھ طاس معاہدہ علاقائی امن واستحکام کا بنیادی ستون ہے : مقررین سمینار
اسلام آباد: ممتاز قومی اور بین الاقوامی ماہرین نے جنوبی ایشیا میں امن اور علاقائی استحکام کے لئے سندھ طاس معاہدے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے پانی کوایک ہتھیار کے طورپر استعمال کرنے کی کسی بھی کوشش سے خبردار کیا ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق جناح کنونشن سنٹر میں ”سندھ طاس معاہدہ – امن اور علاقائی استحکام کا ایک ذریعہ“ کے زیر عنوان ایک بین الاقوامی سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات عطاءاللہ تارڑ نے شرکاءکا خیرمقدم کیا اور اس معاہدے کی تاریخی اہمیت پر روشنی ڈالی جو دنیا میں پانی کی تقسیم کے سب سے پائیدار معاہدوں میں سے ایک ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے لیے سندھ طاس معاہدہ زراعت، غذائی تحفظ اور لاکھوں لوگوں کی روزی روٹی کے لیے لائف لائن ہے۔بلاول بھٹو زرداری، مصدق مسعود ملک اورروس ، چین اور امریکہ کے بین الاقوامی ماہرین سمیت مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ پانی کو تصادم کا نہیں بلکہ تعاون کا ذریعہ رہنا چاہیے۔پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی غیر قانونی اور اشتعال انگیز ہے، انہوں نے کہا کہ پاکستان سفارتی ذرائع سے اور اگر ضرورت پڑی تو سخت کارروائی کے ذریعے اپنے آبی حقوق کا دفاع کرے گا ۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پانی پاکستان کی لائف لائن ہے اور دریائے سندھ پر اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے ملک کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کیا۔
وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی مصدق ملک نے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی ثالثی عدالت قرار دے چکی ہے کہ بھارت پاکستان کے حصے کے پانیوں پر آبی ذخائر نہیں بنا سکتااورنہ ہی یکطرفہ طورپر پانی کا رخ موڑ سکتا ہے۔انہوںنے کہاکہ بھارت ہمارے پانی کے بہاﺅ میں رکاوٹ پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ آلودگی پیدا کرنے والا دنیا کا تیسرا بڑا ملک بھی ہے، سندھ طاس معاہدے کے تحت بھارت یکطرفہ طور پر پانی کا رخ نہیں موڑ سکتا۔ انہوں نے کہا کہ سندھ طاس معاہدہ دنیا کے مضبوط ترین معاہدوں میں سے ایک ہے ، مسئلہ پانی کی عدم دستیابی یا بہاﺅ کا نہیں، کنٹرول کا ہے۔ پاکستان کمشنر برائے سندھ طاس سید مہر علی شاہ نے معاہدے کے ادارہ جاتی فریم ورک اور مستقل انڈس کمیشن کے کردار کا تفصیلی جائزہ پیش کیا۔ انہوں نے ڈیٹا شیئرنگ اور معائنے میں حالیہ رکاوٹوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے معاہدے کے معمول کے عمل کو بحال کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کے یکطرفہ موقف کے باوجود پاکستان نے معاہدے کے تحت اعداد و شمار کا تبادلہ، سرکاری خط و کتابت، ملاقاتوں اور معائنے کی درخواست اور سالانہ رپورٹ کی تیاری کے ذریعے اپنی ذمہ داریوں کو پورا کیا۔مہر علی شاہ نے کہا کہ مئی 2022 سے مستقل انڈس کمیشن کی کوئی میٹنگ نہیں ہوئی، کوئی معائنہ ٹور نہیں کیا گیا اور ماہانہ ڈیٹا ایکسچینج اگست 2026 سے معطل کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اس سے معاہدے کے ادارہ جاتی فریم ورک کو نقصان پہنچ رہاہے اور کشیدگی بڑھ رہی ہے۔
روسی ماہر ڈاکٹر روکسلانا زیگون نے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بھارت نے 2025 کے پہلگام تنازعے کے بعد اس معاہدے کو معطل کر دیا ہے جس سے علاقائی کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت بنیادی ڈھانچے اور ڈیم آپریشنز کے کنٹرول کے ذریعے پاکستان میں پانی کے بہاو¿ کو محدود کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ روسی ماہر نے اس بات پر زور دیا کہ جوہری ہتھیاروں سے لیس دو ملکوں کے درمیان مزید کشیدگی انتہائی خطرناک ہو گی ۔ انہوں نے دونوں فریقوں پر زور دیا کہ وہ علاقائی استحکام کے تحفظ کے لیے سفارتی حل نکالیں۔
ممتاز چینی اسکالراورسفارت کارڈاکٹر وکٹر گاو¿ نے بھارت کو اس اصول پر عمل کرنے کا مشورہ دیا”دوسروں کے ساتھ وہ نہ کریں جو آپ نہیں چاہتے کہ دوسرے آپ کے ساتھ کریں“۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ سندھ طاس جیسے معاہدے صرف اس صورت میں کام کرتے ہیں جب دونوں فریق معاہدے کی روح کا احترام کریں اور یکطرفہ اقدامات سے گریز کریں۔
سابق وفاقی وزیر قانون احمر بلال صوفی نے بین الاقوامی قانون کے تحت معاہدے کی قانونی بنیادوں پر روشنی ڈالی اور خلاف ورزی سے لاحق خطرات سے خبردار کیا۔ انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی سرحدوں کے آر پار بہنے والے دریاو¿ں کو عالمی اثاثوں کا حصہ سمجھا جاتا ہے اور ان کا استعمال تمام دریائی ممالک کو مساوی طور پر کرنا چاہیے، یہ اصول سندھ طاس معاہدے پربھی لاگو ہوتاہے۔انہوں نے کہا کہ معاہدے کو معطل کرنے کے بھارت کے اعلان کی بین الاقوامی قانون یا ویانا کنونشن کے تحت کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے۔
سابق وفاقی وزیر خرم دستگیر خان نے کہا کہ بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی معطلی بین الاقوامی قوانین اور معاہدے کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ایسی کارروائیوں سے زراعت، خوراک کی سلامتی اور لاکھوں زندگیوں کو خطرہ ہے۔
اسلام آباد میں ہونے والے بین الاقوامی سیمینار سے ایک مضبوط پیغام گیاکہ سندھ طاس معاہدہ محض پانی کی تقسیم کا ایک تکنیکی معاہدہ نہیں بلکہ جنوبی ایشیا میں امن، استحکام اور علاقائی بقائے باہمی کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ اعلیٰ سطحی پاکستانی قیادت اور معروف بین الاقوامی قانونی اور ہائیڈرولوجیکل ماہرین کو اکٹھا کرکے پاکستان نے معاہدے کو معطل کرنے کی بھارت کی یکطرفہ کوشش کو سختی سے مسترد کردیا۔ سیمینار نے اس بات کو تقویت دی کہ کسی ایک فریق کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ عالمی بینک کی ثالثی میں ایک بین الاقوامی معاہدے کو معطل کرے اور ایسا کوئی بھی اقدام ایک خطرناک نظیر قائم کرے گا جو نہ صرف دوطرفہ تعلقات کو بلکہ دنیا بھر میں پانی کی تقسیم کے بین الاقوامی فریم ورک کو بھی غیر مستحکم کر سکتا ہے۔سیمینار کا اختتام اس اتفاق رائے پر ہوا کہ جنوبی ایشیا میں امن و استحکام کے لیے سندھ طاس معاہدے کا تحفظ ضروری ہے۔






