اسرائیل کی مسلسل جارحیت اور ایران معاملے پر پراسرار خاموشی، بھارتی منافقانہ پالیسی بے نقاب
اسلام آباد: اسرائیلی کی بڑھتی جارحیت پر مسلسل خاموشی اور جنگ بندی کے بعد ایران کے معاملے پر مفاد پرستانہ رویے سے بھارتی منافقانہ خارجہ پالیسی مکمل طورپر بے نقاب ہو گئی ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق اسرائیل کے ایران پر حملے سے 2 روز قبل بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے اسرائیل کا دورہ کیا تھا اورجنگ کے دوران ایران کے معاملے پر مکمل خاموشی اختیار کی تھی۔بھارتی خبر ایجنسی اے این آئی کے مطابق ایران پر حملوں کے دوران بھارت اسرائیل کے ساتھ کھڑا رہا اور آج توانائی و تجارتی مفادات کے تحت دوبارہ ایران سے قربت اختیار کر رہا ہے۔ اس سلسلے میں ایرانی صدر سے ٹیلی فونک گفتگو میں مودی نے تنازعات کو مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے حل کرنے پر زور دیا ہے۔آبنائے ہرمز کی بحالی اورایران پر مالی پابندیوں میں نرمی پہلے ہی ایران امریکا 14 نکاتی معاہدے میں شامل ہے۔ مودی نے آبنائے ہرمز میں بحری راستوں اور تجارتی آزادی کا تحفظ عالمی و بھارتی مفاد قرار دے دیا ۔عالمی ماہرین کے مطابق بھارت کا آبنائے ہرمز میں آزادی جہاز رانی پر زور ایران کی حمایت نہیں بلکہ بھارتی تجارت، تیل کی رسد اور معاشی مفادات کا تحفظ ہے۔ بھارت امریکی دبائو پر ایرانی تیل کی خریداری ترک کر چکا تھا، جس سے واضح ہے کہ امریکی مفادات کے سامنے ایران کے ساتھ اس کے تعلقات ثانوی حیثیت رکھتے ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت نے ایران پر اسرائیلی حملے کی واضح مذمت نہیں کی اور ایران کی خود مختاری کے دفاع میں بھی مکمل خاموشی اختیار کی ۔ جنگ سے قبل بھارت کی اسرائیل کیساتھ شراکت داری، دورانِ جنگ مکمل خاموشی اور جنگ کے بعد ایران سے تیل کی خاطر دوستی، منافقت اورموقع پرستی کی علامت ہے۔







