مودی کا بھارت ہندوتوا راج کی لپیٹ میں، نام نہاد جمہوریت کا پردہ فاش
مودی حکومت نے 9 ریاستوں میں ساڑھے 6 کروڑ ووٹرز خارج کر دیے

نئی دہلی:بین الاقوامی ماہرین اورتحزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مودی حکومت نے کروڑوں بھارتی شہریوں کا ووٹ کاآئینی حق چھین کر اپنی نام نہاد جمہوریت کا پول کھول دیا ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق ماہرین کا کہنا ہے کہ مودی نے بھارتی عوام کا سامنا کرنے کے بجائے اپنے خلاف اٹھنے والی آوازوں کا سیاسی وجود ہی مٹا دیا۔ معروف بین الاقوامی جریدے” دی جاپان ٹائمز “کے مطابق مودی اقتدار میں رہنے کیلئے بھارتی عوام کے بجائے اپنی مرضی کے ووٹرز تیار کر رہا ہے۔سیاسی تجزیہ کار یوگیندر یادو کا کہنا ہے کہ مودی نے ریاستی قوانین اور اداروں کا غلط استعمال کر کے ووٹروں کو ہی تبدیل کرنے کا کھیل شروع کر دیا ہے۔ مودی نواز الیکشن کمیشن نے اسپیشل انشیٹیو ریویژن جیسی متنازع مہم کی آڑ میں انتخابی فہرستوں میں بڑی تبدیلی کی۔فرانس کے سیاسی ماہر جائلز ورنیئر کے مطابق مودی حکومت کی جانب سے ووٹر لسٹوں میں اچانک تبدیلی بھارتی تاریخ کی سب سے بڑی انتخابی دھاندلی ہے۔ مودی حکومت اب تک 9 ریاستوںمیں ساڑھے 6 کروڑ ووٹرز خارج کر چکی ہے جن کی تعداد 10 کروڑ تک پہنچنے کی توقع ہے۔مودی کی انتخابی پالیسیوں کے تحت مغربی بنگال میں ووٹ کا حق کھونے والے لوگ کسی بھی قسم کی سرکاری سہولت کے اہل نہیں رہے۔ کانگریس کے سابق ترجمان سنجے جھا کے مطابق مودی کے زیر اقتدار بھارت میں الیکشن کمیشن، بیوروکریسی اور دیگر ریاستی ادارے سیاسی رنگ میں رنگ چکے ہیں۔





