بھارت 25 ہزار سکھوں کے قتلِ عام کے شواہد مٹانے کی کوشش کررہا ہے:رپورٹ الجزیرہ
نئی دہلی: ذرائع ابلاغ کے معروف بین الاقوامی ادارے الجزیرہ نے ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ بھارت فلم’ ’ستلج“ پر پابندی لگاکر 1984 کے واقعات اور سکھوں کے خلاف تشدد کی سیاہ تاریخ مٹانے کی کوشش کررہا ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق رپورٹ میں کہاگیا کہ بھارتی حکومت طویل عرصے سے سکھوں پر تشدد کے واقعات کونظرانداز کرتی رہی ہے۔فلم ’ستلج‘ کی نمائش کو تین سال تک روکا گیا اورتقریباً 130 مناظر حذف کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔فلم انسانی حقوق کے کارکن جسونت سنگھ کھالڑا کی زندگی، تحقیقات، حراستی تشدد اور 1995 میں ان کے قتل کی کہانی پر مبنی ہے۔ رپورٹ کے مطابق ابتدائی طور پر ’پنجاب 95‘ کے نام سے بننے والی فلم کو بھارتی سنسر بورڈ نے تین سال تک روکے رکھا اور اس میںتقریباً 130 ترامیم کا مطالبہ کیا۔فلم سازوں نے اسے 3 جولائی کو” زی فائیو“ پر جاری کیا لیکن صرف 48 گھنٹوں بعد اسے سیکیورٹی خدشات کی آڑ میں ہٹا دیا گیا۔رپورٹ میں کہاگیا کہ جسونت سنگھ کھالڑا نے شمشان گھاٹوں کے ریکارڈ کی بنیاد پر کہاتھا کہ ہزاروں لاپتہ افراد کی لاشیں ان کے اہلخانہ کو مطلع کئے بغیر خفیہ طور پر نذرآتش کیگئیں۔ مسلسل دھمکیوں کے باوجود تحقیقات جاری رکھنے پر کھالڑا کو 6 ستمبر 1995 کو گھر کے باہر سے گرفتارکیا گیا جس کے بعد ان کا کوئی سراغ نہیں ملا۔رپورٹ میں کہاگیا کہ جسونت سنگھ کھالڑا کی اہلیہ پرمجیت کور کی قانونی جدوجہد کے نتیجے میں سی بی آئی نے کیس کی تحقیقات کی اور پانچ پولیس اہلکاروں کو عمر قید کی سزا سنائی گئی۔ پنجاب کی خالصتان تحریک کے دوران بھارتی فورسز تشدد، جبری گمشدگیوں، ماورائے عدالت قتل اوردوران حراست ہلاکتوں میں ملوث رہیں ، فلم ”ستلج “نے پنجاب کے تاریخی زخم دوبارہ تازہ کر دیے۔ الجزیرہ کی رپورٹ میں کہاگیا کہ سرکاری پابندی کے باوجود پنجاب، لندن، نیویارک اور ٹورنٹو میں گردواروں اور کمیونٹی ہالز میں فلم کی نمائش جاری ہے۔ تجزیہ کارروں کا کہنا ہے کہ 25ہزار افراد کی خفیہ طورپر آخری رسومات کی تحقیقات دبانا متاثرین کی اجتماعی یادداشت متاثر کرنے کے مترادف ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت سکھوں پر منظم تشدد کے پہلوﺅں کو تاریخ سے اوجھل رکھنے کی کوشش کررہا ہے جو ممکن نہیں ہے۔






