بھارت: رام مندر عطیات میں مالی بے ضابطگیوں کے بعد اتراکھنڈ کے مندر میں بھی مالی خرد بردکا انکشاف
نئی دلی: بھارت کو نام نہاد ہندو ریاست بنانے کی دعویدار مودی حکومت نے ہندو مذہب کو بھی کرپشن کی نذر کر دیا ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق بھارت میں ہندوتوا بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت کے دور میں تاریخی بابری مسجد کی جگہ پر قائم کئے گئے رام مندرکے عطیات میں مالی بے ضابطگیوں کے بعد اتراکھنڈ کے ایک مندر میں بھی مالی خرد بردکا انکشاف ہوا ہے ۔بھارتی جریدے دی وائر کی رپورٹ میں ا نکشاف کیاگیاہے کہ مندر کے فنڈز وی آئی پی مہمانوں کی میزبانی پر خرچ کیے جاتے رہے ہیں۔تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ بی جے پی کی ریاستی سیکریٹری نیہا جوشی کے نام پرمندر کے عطیات سے 60ہزار روپے خرچ کیے گئے ہیں۔ رپورٹ میں سوال اٹھایا گیا ہے کہ بی جے پی کی اعلیٰ قیادت رام مندر فنڈز سے متعلق الزامات کی ذمہ داری سے کیسے بری الذمہ ہو سکتی ہے۔دی وائر کے مطابق رام مندر عطیات میں چوری کے معاملے کو ایک ماہ گزرنے کے باوجود نریندر مودی نے تاحال عوامی سطح پر کوئی بیان نہیں دیا۔ بھارتی وزیر نے رام مندر کے معاملے پر آر ایس ایس سے عوامی معافی کا مطالبہ کیا ہے۔بھارتی رکن صوبائی اسمبلی ساگریکا گھوش نے نریندر مودی پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے رام مندر کیس پر سخت تنقید کے باوجود مودی کے منہ سے ایک لفظ بھی نہ نکلنا انتہائی تشویشناک ہے۔







