نئی دلی :جنتر منتر پر مظاہرین کی مسلسل پولیس نگرانی حقوق کی خلاف ورزی
ہائیکورٹ میں مفاد عامہ کی درخواست دائر

نئی دلی : دلی ہائیکورٹ میں مفاد عامہ کی ایک عرضداشت دائر کی گئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ جنتر منتر پر پرامن احتجاج کرنے والوں کی پولیس مسلسل نگرانی کر رہی ہے ، اس طرح کی نگرانی شہریوں کے رازداری ، وقار ، آزادی اظہار رائے اور پر امن اجتماع کے بنیادی آئینی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔
کشمیر میڈیاسروس کیمطابق یہ عرضداشت جواہر لال نہرو یونیورسٹی کی سٹوڈنٹس یونین کی سابق صدر ایشے گھوش نے دائر کی ہے۔ انہوںنے اپنی درخواست میں کہا کہ 20جون سے جنتر منتر پر جاری کاکروچ جنتا پارٹی ( سی جے پی ) کے دھرنے اور سونم وانگ چک کی بھوک ہڑتال کے آغاز سے ہی مظاہرین کی مسلسل نگرانی کی جارہی ہے اور انکی تصاویر اور ویڈیوز بنائی جا رہی ہیں۔ یہ نگرانی بلا امتیاز ہے اور احتجاج میں شامل ہر شخص کو اس کی زد میں رکھا جارہا ہے ، نگرانی صرف احتجاجی سرگرمیوں تک محدود نہیں ہے بلکہ کھانا کھانے ، آرام کرنے ، طبی امداد حاصل کرنے اور روز مرہ کی دیگر نجی سرگرمیوں کو بھی ریکارڈ کیا جارہا ہے۔ انہوںنے اپنی عرضداشت میں مزید کہا کہ نگرانی کے اس نظام کو مظاہرین کو ڈرانے دھمکانے اور احتجاج سے باز رکھنے کیلئے استعمال کیا جا رہا ہے ، پولیس نے کئی مواقع پر طلباء کو دھمکی دی کی احتجاج کے دوران لی گئی تصاویز اور ویڈیوز انکے والدین ،سر پرستوں اور متعلقہ تعلیمی اداروں کے سربراہوں کو بھیج دی جائیں گی۔ان دھمکیوں نے خوف وہراس کا ماحول پیداکردیا ہے جس کے باعث کئی طلباء احتجاج میں شرکت ، تحریک سے وابستگی یا اپنے خیالات کے اظہار سے گریز کر رہے ہیں ، درخواست میں کہا گیا کہ طلباء کی شناخت ظاہر کرنے اور نگرانی کے مواد کو استعمال کرنے کی دھمکی نے اس نگرانی کو محض مشاہدے تک محدود نہیں رکھا بلکہ اسے جمہوری اختلاف رائے کو دبانے اور لوگوں کو خوفزدہ کرنے کا ذریعہ بنادیا ہے جس سے آئین کے حاصل آزادیوں پر منفی اثر پڑ رہا ہے ۔







