سونم وانگچک کی بھوک ہڑتال پر مودی حکومت کی خاموشی تشویشناک ہے، عمر عبداللہ
سرینگر:
غیر قانونی طور پر زیر قبضہ جموں و کشمیر کے وزیر اعلی عمر عبداللہ نے لداخ کے ماحولیاتی کارکن سونم وانگچک کی بگڑتی ہوئی صحت پر تشویش کا اظہار کیاہے ۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق سرینگر میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے امتحانی بے ضابطگیوں کے خلاف سونم وانگچک کی 19 روزہ بھوک ہڑتال کے باوجود ان سے بات کرنے کی کوئی کوشش نہ کرنے بی جے پی کی بھارتی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا ۔ انہوں نے کہا کہ سونم وانگچک نئی دلی میں غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال شروع کرنے کے بعد سے انکا تقریبا نو کلوگرام وزن کم ہو گیا ہے ، تاہم مودی حکومت نے انہیں بھوک ہڑتال ختم کرنے پر آمادہ کرنے کی کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی۔انہوں نے کہاکہ بھوک ہڑتال کو 19 دن ہو چکے ہیں اورانکی صحت پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔تاہم مودی حکومت نے انہیں بھوک ہڑتال ختم کرنے پر آمادہ کرنے کی کوئی کوشش نہیں کی۔عمر عبداللہ نے امتحانی بے ضابطگیوں پر جوابدہی کا مطالبہ جائز ہے اور اس پر سنجیدگی سے توجہ دی جانی چاہیے۔انہوں نے کہاکہ ہم بھی اس معاملے میں انصاف چاہتے ہیں۔تاہم ی بات سمجھ سے باتر ہے کہ حکومت ان مسائل پر توجہ کیوں نہیں دے رہی۔
واضح رہے کہ سونم وانگچک کاکروچ جنتا پارٹی کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے لیے غیر معینہ مدت کیلئے بھوک ہڑتال پر ہیں۔ مظاہرین تعلیمی اصلاحات اور امتحانی بے ضابطگیوں کے معاملے پر بھارتی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔







