بھارت:عدالت کا مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کے 38بلاکس گرانے کا حکم

نئی دلی:بھارتی ریاست اترپردیش میں عدالت نے مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کے 38 بلاکس کو غیر قانونی قراردیتے ہوئے گرانے کا حکم دے دیا گیا۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق مجسٹریٹ اجے کمار کی عدالت نے قراردیاکہ یونیورسٹی کے یہ بلاکس پیشگی منظوری لیے بغیر بنائے گئے ہیں۔ عدالت نے یونیورسٹی انتظامیہ کی یہ دلیل ماننے سے انکار کردیا کہ یونیورسٹی کے یہ بلاکس پہلے بنے اور وہ گائوں، جہاں یونیورسٹی موجود ہے، رام پور ڈیولپمنٹ اتھارٹی کی حدود میں بعد میں آیا۔ اس لیے اجازت لینے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اتھارٹی نے جواب میں کہا کہ اجازت لینا پھر بھی لازمی تھا۔ رام پور ریلوے اسٹیشن سے 12کلومیٹر دور واقع محمد علی جوہر یونیورسٹی 2006میں سماج وادی پارٹی کے مسلمان رہنما اعظم خان نے قائم کی تھی۔ اعظم خان رواں سال یونیورسٹی کا انتظام گورننگ بورڈ کے سپرد کرچکے ہیں۔ یہ یونیورسٹی رام پور کے مضافاتی گاوں سنگن کھیڑا میں واقع ہے۔ یہ گائوں 27ستمبر 2024سے پہلے رام پور ڈیولپمنٹ اتھارٹی کی حدود میں نہیں تھا۔ اسی لیے یونیورسٹی انتظامیہ نے کہا کہ تمام 38بلاکس 2024 سے پہلے بنائے گئے۔ اس لیے رام پور ڈیولپمنٹ اتھارٹی سے اجازت لینے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ بعد میں بنے قانون کے تحت بلڈنگ کو غیرقانونی قرار دینا جائز نہیں۔







