
بھارت کا شورش زدہ پنجاب سلگ رہا ہے بلکہ آگ کے دہانے پر کھڑا ہے۔ گوکہ سکھوں میں بھارت کے خلاف نفرت 1984سے انتہاﺅں کو چھو رہی ہے ،جب امرتسر میں سکھوں کے مقدس مقام گولڈن ٹیمپل پر بھارتی افواج نے چڑھائی کی، ٹینکوں سے گولہ باری کرکے گولڈن ٹیمپل جسے سکھ مقدس ترین مقام سمجھتے ہیں ،کے اندر بھارتی فوجیوں نے سکھوں کا قتل عام کیا جس میں سنت جرنیل سنگھ بھنڈراں والا بھی شامل تھے۔ بھارتی حکومت کے اس اقدام نے سکھوں کو اس قدر متنفر کیا کہ دو سکھ باڈی گارڈز نے بھارتی وزیر اعظم اندرا گاندھی کو گولیاں مار کر ہلاک کیا اور پھر برملا اس بات کا اعتراف کیا کہ ہم نے گولڈن ٹیمپل پر بھارتی فوجی چڑھائی کا بدلہ لیا ہے۔
اندرا گاندھی کی سکھ محافظوں کے ہاتھوں ہلاکت کے بعد بھارت میں سکھوں کی بڑے پیمانے پر نسل کشی کی گئی ، دہلی کی سڑکوں پر سکھوں کی گردنوں میں ٹائر ڈال کر زندہ جلایا گیا۔ ہزاروں سکھوں کو لاپتہ کیا گیا ۔ سکھ خواتین کی آبروریزی کی گئی۔ بھارتی مظالم سے بچنے کیلئے ہزاروں سکھ بھارت سے نقل مکانی کرکے بیروں ملک چلے گئے۔ ان سکھوں نے بیرون ملک آزاد خالصتان تحریک کو زندہ رکھا۔ امریکہ سے لیکر اسڑیلیا،کینیڈا ،برطانیہ اور دوسرے ممالک میں درجنوں بار سکھ ریفرنڈم منعقد کرائے گئے،جن میں لاکھوں سکھ مرد و خواتین حصہ لیکر خالصتان ریفرنڈم کے حق میں ووٹ دے چکے ہیں۔ مودی حکومت سکھوں کی آواز کو دبانے کیلئے خالصتان کے حامیوں اور سکھز فار جسٹس کے رہنماﺅں کو بیرون ملک نشانہ بنارہی ہے۔کینیڈا میں خالصتان تحریک کے رہنما ہردیپ سنگھ نجر کو18 جون 2023 میں برٹش کولمبیا کے شہر سرے میں واقع ایک سکھ گوردوارے کے باہر گولی مار کر قتل کیا گیا تھا ۔برطانیہ میں خالصتان تحریک کے سرگرم رہنما اوتار سنگھ کھانڈا کی 15جون 2023 کو برمنگھم کے ایک ہسپتال میں پراسرار حالات میں موت واقع ہوئی۔ ان کے ساتھیوں اور خاندان نے اس موت کو مشکوک قرار دیتے ہوئے زہر دیے جانے کے خدشات کا اظہار کیا ہے۔ پاکستان میں پرم جیت سنگھ پنجواڑ کو 06 مئی 2023کو لاہور کے جوہر ٹاون میں نامعلوم موٹر سائیکل سواروں نے فائرنگ کر کے قتل کیا تھا۔
سکھز فار جسٹس کے سربراہ گرو پتونت سنگھ پنون کو قتل کرنے کی سازش اور کوشش کی گئی ۔ جو خوش قسمت واقع ہوئے کہ وہ امریکہ کا شہری ہے اور امریکہ نے اس کے قتل پر عملدر آمد سے پہلے ہی قاتل کو پکڑ لیا اور بھارت کو سخت پیغام دیا گیا ہے۔مودی کا بھارت پہلے ہی خالصتان تحریک سے سخت پریشان ہے کہ اب رہی سہی کسر فلم ستلج” نے پوری کی ہے ۔ جو دلجیت دوسانجھ نے پنجاب میں سکھوں کی نسل کشی پر بنائی ہے۔فلم ستلج سکھوں کے قتل عام ، خواتین کی آبروریزی اور سکھ نوجوانوں کو اغوا کے بعد انہیں لاپتہ کرنے پر فلمائی گئی ہے۔ فلم اس وقت کے پویس آفیسر اجیت سنگھ سندھو کے مظالم کے اردگرد گھومتی ہے۔جبکہ انسانی حقوق کے کارکن جسونت سنگھ کھالڑا جو اغوا کرنے کے بعد لاپتہ ہونے والوں میں شامل ہیں، مرکزی کردار ہیں ۔جسونت سنگھ کھالڑا جانتے تھے کہ ان کیلئے خطرات موجود ہیں۔ ان کی اہلیہ، دو چھوٹے بچے تھے اور انہیں بیرونِ ملک پناہ لینے کا موقع بھی میسر تھا، لیکن انہوں نے اپنے لوگوں کیساتھ رہنے کا فیصلہ کیا کیونکہ انہیں یقین تھا کہ کسی کو متاثرہ سکھ خاندانوں کیلئے آواز اٹھانی ہوگی۔”تین دہائیوں سے زائد عرصہ بعد بھی جسونت سنگھ کھالڑا کی کہانی آج بھی اپنی جگہ اہمیت رکھتی ہے۔ ان کی جدوجہد یاد دلاتی ہے کہ ہر لاپتہ شخص کے پیچھے ایک خاندان ہوتا ہے جو واپسی کا منتظر رہتا ہے، اور سچ کو محفوظ کرنا خود مزاحمت کا ایک عمل بن سکتا ہے۔فلم”ستلج” کے ذریعے نئی نسل کو ایسے شخص کی کہانی سے روشناس کرایا جا رہا ہے جس کی انصاف کیلئے جدوجہد ان کے لاپتہ ہونے کے برسوں بعد بھی لوگوں کو متاثر کر رہی ہے۔
تاریخ اکثر جنگوں اور سیاسی رہنماوں کو یاد رکھتی ہے، لیکن تاریخ ان عام لوگوں سے بھی تشکیل پاتی ہے جو خاموش رہنے سے انکار کرتے ہیں۔
جسونت سنگھ کھالڑا بھی انہی شخصیات میں شامل تھے۔پنجابی انسانی حقوق کے کارکن جسونت سنگھ کھالڑا نے اپنی زندگی پنجاب میں خالصتان تحریک کے دوران جبری گمشدگیوں اور خفیہ آخری رسومات کے واقعات کو دستاویزی شکل دینے کیلئے وقف کر دی۔ ان کی کوششوں کا مقصد ان خاندانوں کیلئے جواب تلاش کرنا تھا جن کے پیارے لاپتہ کیے گئے تھے۔ اسی وجہ سے وہ اپنے دور کے نمایاں انسانی حقوق کے محافظوں میں شمار کیے جاتے ہیں۔یاد رہے کہ جسونت سنگھ کھالڑا 6 ستمبر 1995 کو لاپتہ ہوئے، جب امر تسر میں انہیں ان کے گھر کے باہر پولیس نے حراست میں لیا تھا۔ انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں، بشمول ایمنسٹی انٹرنیشنل نے طویل عرصے سے ان کے کیس کو احتساب اور انصاف کی جدوجہد کی علامت کے طور پر اجاگر کیا ہے۔
بھارت میں سکھوں کے خلاف ہونے والے تشدد اور انسانی حقوق کے حساس موضوع پر بننے والی فلم "ستلج” ریلیز کے چند دن بعد ہی بھارت میں پابندی کی زد میں آ گئی۔یہ فلم پوری دنیا میں موجود سکھوں کے دلوں میں آگ بھڑکانے کا باعث بنی۔ مودی حکومت نے فلم ستلج فوری طور پر آن لائن سٹریمنگ پلیٹ فارم سے ہٹادی ۔ مودی حکومت کے اس اقدام نے پوری دنیا کے سکھوں بالخصوص پنجاب کے سکھوں کے سینوں میں آگ بھڑکائی ہے۔ بقول دلجیت دوسانجھ سکھوں نے فلم ستلج کو ڈاون لوڈ کیا ہے اور اسے جنگل کی آگ کی طرح پوری دنیا میں پھیلایا جارہا ہے۔اس وقت فلم گردواروں میں دیکھی جاتی ہے۔مودی کا اقدام نہ صرف ناکام بلکہ یہ اسی ہی کے گلے پڑگیا ہے۔
"ستلج” صرف ایک فلم نہیں بلکہ ایک ایسے دور کی یاد دہانی ہے جس میں تشدد، خوف، سیاسی کشمکش اور انسانی المیے شامل رہے۔کئی دہائیاں گزرنے کے باوجود پنجاب کے اس دور سے متعلق سوالات آج بھی موجود ہیں۔”ستلج” کے ذریعے ایک نئی نسل کو ایک ایسے شخص کی کہانی سے متعارف کرایا جا رہا ہے جس نے لاپتہ افراد کے خاندانوں کیلئے آواز اٹھاکر اپنی جان بھی گنوائی ہے۔یہ فلم پھر ایکبار اس بحث کو زندہ کر گئی ہے کہ تاریخ کو یاد رکھنا، انسانی حقوق پر بات کرنا اور مختلف نقطہ نظر کو جگہ دینا ایک جمہوری معاشرے کیلئے کتنا اہم ہے۔کیونکہ تاریخ صرف طاقتوروں کے فیصلوں سے نہیں بنتی، بلکہ ان لوگوں کی آوازوں سے بھی بنتی ہے جو سچ کی تلاش میں مشکلات کا سامنا کرتے ہیں۔
پورا پنجاب ابل پڑا ہے ۔ سکھوں کے سینوں میں آگ بھڑک چکی ہے۔پنجاب میں پولیس اہلکاروں کی سرعام درگت بنانے کی ویڈیوز وائرل ہورہی ہیں۔ نوجوان تو نوجوان بزرگ سکھ بھی پولیس اہلکاروں کیساتھ لڑتے ہوئے نظر آرہے ہیں۔
گرپتونت سنگھ پنون نے بیرون دنیا میں جس آزاد خالصتان تحریک کی بنیاد رکھی ،اس کی جھلک آج پورے پنجاب میں بڑی شدت کیساتھ دکھائی دے رہی ہے۔ پنجاب میں سکھوں کو روکنا اب ناممکن دکھائی دے رہا ہے۔مودی نے سکھوں کو للکارا ہے تو سکھ بھی اس چلینج کو قبول کررہے ہیں۔جگہ جگہ احتجاج اور مودی کے خلاف جو زبان استعمال کی جارہی ہے ،وہ آنے والے وقت میں سکھوں کی تحریک کی از سر نو احیاءکی جانب اشارہ ہے۔
سکھ طویل تاریخ رکھتے ہیں اور انہوں نے ہمیشہ مزاحمت کی ہے ۔ مزاحمت سکھوں کے خون میں موجزن ہے۔بھارت میں گزشتہ کئی برسوں سے مودی حکومت کے خلاف کسانوں کی تحریک بھی جاری ہے اور اس تحریک میں سکھ ہی پیش پیش ہیں۔26جنوری 2021کوسکھ کسانوں نے ٹریکٹر ریلی کے دوران دہلی کے لال قلعہ پر اپنا پرچم لہرایا تھا۔امرت پال سنگھ بھارتی ریاست آسام کی ڈبرو گڑھ سینٹرل جیل میں قید ہیں۔ وہ بھنڈرا والا کی طرز پر خالصتان تحریک کو دوبارہ شروع کرنے کی شہرت رکھتے ہیں۔ خالصتان تحریک کیلئے زمین ہموار ہے اورقیادت چاہے جیل میں ہو یا بیرون ملک ، پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ خالصتان تحریک میں کردار ادا کرنے کیلئے خود کو تیار کریں کیونکہ پنجاب میں حالات جو کروٹ لے رہے ہیں وہ خالصتان تحریک کی بھرپور شروعات کی عکاسی کرتی ہے ۔ پھر یہ تحریک پنجاب تک ہی محدود نہیں رہے گی بلکہ وہاں سے مقبوضہ جموں وکشمیر تک پوری شدت کیساتھ آگے بڑھے گی اور چکن نیک بھی اسی کی لپیٹ میں آئے گی ۔یہ وقت کی پکار اور اس پکار پر لبیک کہنا ہر مظلوم کیلئے ناگزیر ہے۔








