شبیر احمد شاہ کی بیٹی کی اپنے والد کے لیے دعاوں کی جذباتی اپیل

سرینگر:غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس کے سینئر رہنما شبیر احمد شاہ کی بیٹی نے اپنے والد کی طویل نظربندی، بگڑتی ہوئی صحت اور ضمانت ملنے کے باوجود اہلخانہ سے مسلسل جدائی کو اجاگر کرتے ہوئے ان کے لیے دعاوں کی جذباتی اپیل کی ہے۔
کشمیر میڈیاسروس کے مطابق سحر شبیر شاہ نے سوشل میڈیا پوسٹ میں کہا کہ اہل خانہ کو امید تھی کہ شبیراحمد شاہ بھارتی سپریم کورٹ کی جانب سے ضمانت منظور ہونے کے بعد بالآخر گھر واپس آجائیں گے لیکن یہ امید پوری نہیں ہوئی۔ انہوں نے تقریباً دس سالوں میں اپنے والد کی پہلی واضح تصویر شیئر کرتے ہوئے کہا کہ جیل میں ملاقات کے دوران اہلخانہ کو صرف شیشے کی موٹی دیوار اور لوہے کی سلاخوں کے پیچھے سے دیکھنے کی اجازت دی جاتی تھی۔سحر نے کہا کہ اہلخانہ ہر روزجدائی کا درد برداشت کر رہے ہیں۔ انہوں نے غم و غصے کا اظہار کیا کہ ان کے والد کو درکار فوری سرجری ابھی تک نہیں ہو سکی ہے۔شبیر شاہ کی چار دہائیوں کی نظربندی کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ سالہاسال کی نظربندی کے باوجود اپنے ایمان اور عزم پر ثابت قدم ہیں۔ سحر نے دنیا بھر کے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ شبیر احمد شاہ کو اپنی دعاوں میں یاد رکھیں اورامید ظاہرکی کہ آخرکار انصاف کی فتح ہوگی۔شبیر احمد شاہ سب سے طویل نظربندی گزارنے والے کشمیری حریت رہنماوں میں سے ایک ہیں اور ان کی مسلسل نظربندی پر سیاسی اور انسانی حقوق کے حلقوں نے بار بار تشویش کا اظہار کیا ہے اور ان کی رہائی اور مناسب علاج کی فراہمی کا مطالبہ کیا ہے۔







