بھارت

”وندے ماترم “ کو لازمی قرار دینا مذہبی آزادی کے منافی ہے، اسد الدین اویسی

نئی دلی :آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین ( اے آئی ایم آئی ایم ) کے صدر اور رکن پارلیمنٹ اسد الدین اویسی نے پارلیمنٹ سے ” قومی وقار کی توہین کے روک تھام (ترمیمی بل) 2026کی منظور ی کے بعد قومی گیت وندے ماترم کو لازمی قرار دینے کی سخت مخالف کرتے ہوئے کہا کہ یہ دستور میں دی گئی مذہبی آزادی کے حق کی خلاف ورزی ہے۔
کشمیر میڈیاسروس کے مطابق اسد الدین اویسی نے کہا کہ ایک مسلمان ہونے کی حیثیت سے صرف اللہ کی عبادت کرتے ہیں اور اپنے مذہب کے خلاف ہرگز کوئی عمل انجام نہیں دے سکتے ۔ انہوںنے کہا کہ میں مسلمان ہوں اور صرف اللہ کی عبادت کرتاہوں اور اگر میں کسی اور کی عبادت کروں تو یہ میرے مذہب کے خلاف ہوگا۔ انہوں نے قومی ترانہ ”جن گن من“ اور”قومی گیت”وندے ماترم“ کے درمیاں موجود واضح فرق بیان کرتے ہوئے کہا کہ قومی ترانہ ملک اور اسکے عوام کے احترام کا اظہار ہوتا ہے جبکہ وندے ماترم میں ایک دیوی کی عقیدت کے عناصر شامل ہیں، دونوں کی نوعیت مختلف ہیںاور انہیں ایک جیسا نہیں سمجھا جاسکتا۔ اسد الدین اویسی نے وندے ماترم کے قومی گیت ہونے کی حیثیت پر بھی سوال اٹھا یا۔ انہوں نے دعوی ٰ کیا کہ سابق صدر ڈاکٹر راجندر پرساد نے 1950میں اسے قومی گیت تسلیم کر کے غلطی کی تھی۔ کیونکہ پارلیمنٹ نے اس سلسلے میں کبھی کوئی باضابطہ قرار دادا منظور نہیں کی اور نہ ہی دستور میں قومی گیت کی کوئی صریح تعریف موجود ہے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button