سہارنپور: ہندو تواگروپ کا دارالعلوم دیوبند میں گنگا جل لے جا کر پوجا کرنے کا اعلان
سہارنپور: بھارتی ریاست اترپردیش میں ہندو انتہا پسند تنظیم ہندو رکشا دل نے کل بروز منگل کوضلع سہارنپور میں واقع معروف اسلامی تعلیمی ادارے دارالعلوم دیوبندمیں گنگا جل لے جا کر پوجا کرنے کا اعلان کیا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق ہندو رکشا دل نے دعویٰ کیا ہے کہ معروف اسلامی تعلیمی ادارے دارالعلوم دیوبند کے احاطے کے نیچے شیو لنگ موجود ہے، تاہم اس دعوے کے حق میں تاحال کوئی مستند عوامی ثبوت سامنے نہیں آیا۔تنظیم کے اعلان کے مطابق اس کے ہندو انتہاپسند منگل کو ہریدوار سے گنگا جل لے کر دیوبند پہنچیں گے اور دارالعلوم دیوبند میں مذہبی رسم ادا کرنے کی کوشش کریں گے۔ہندو رکشا دل کے اتراکھنڈ صدر للت شرما نے ایک ویڈیو پیغام میں اس پروگرام کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدام تنظیم کے قومی صدر پنکی چودھری کی قیادت میں کیا جائے گا۔ للت شرما نے دعوی کیا کہ دارالعلوم دیوبند کے احاطے کے نیچے شیو لنگ اور شیو مندر موجود ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ تنظیم نے اس دعوے کی تحقیقات کے لیے سہارنپور انتظامیہ سے بھی رابطہ کیا تھا۔تاہم انتظامیہ نے اس مطالبے پر کوئی کارروائی نہیں کی، جس کے بعد تنظیم نے خود دارالعلوم دیوبند پہنچ کر گنگا جل چڑھانے(چھڑکنے ) کا فیصلہ کیاہے۔ دارالعلوم دیوبند کے نیچے شیو لنگ یا مندر موجود ہونے کا دعوی محض ایک الزام ہے اور دستیاب معلومات کے مطابق اس کی تائید میں کوئی مستند ثبوت سامنے نہیں آیا۔مبصرین کے مطابق مسلمانوں کے مذہبی مقامات یا تعلیمی اداروں کے نیچے ہندو مندر یا شیولنگ کی موجودگی سے متعلق غیر مصدقہ دعوے بھارت میں فرقہ وارانہ کشیدگی کو جنم دے سکتے ہیں ۔ مبصرین نے کہاکہ دارالعلوم دیوبند بھارت کے معروف اسلامی تعلیمی مراکز میں شمار ہوتا ہے اور اس ادارے کی تاریخی اور مذہبی اہمیت کے باعث اس نوعیت کا کوئی بھی تنازع حساس نوعیت اختیار کر سکتا ہے۔دیوبند ایک حساس مذہبی اور تعلیمی مرکز ہونے کے باعث کسی بھی اشتعال انگیز سرگرمی کے ممکنہ اثرات کے حوالے سے خاص اہمیت رکھتا ہے۔ ہندو رکشا دل کے اس دعوے پر مسلم تنظیموں کی جانب سے شدید ردعمل کا اظہار کیا جارہا ہے۔ مسلم تنظیموں نے اس طرح کے دعوئوں کو جھوٹ پر مبنی اور نفرت انگیز قرار دیا۔دارالعلوم دیوبند کے حوالے سے یہ اعلان ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے جب چند روز قبل ایک اور ہندو تنظیم نے آگرہ میں تاج محل کے مقام پر مذہبی تقریب منعقد کرنے کی کوشش کی تھی۔






