بھارت

امبالہ:بھارت میں یومِ آزادی سے قبل حالات کشیدہ

خالصتان حامی سکھ احتجاج اورانٹرنیشنل اینٹی خالصتانی ٹیررسٹ فرنٹ تنازعہ شدت اختیار کر گیا

امبالہ :  بھارت میں یومِ آزادی سے قبل ریاست ہریانہ کے ضلع امبالہ میں خالصتان تحریک کے حامی سکھوں اور خالصتان مخالف گروپ انٹرنیشنل اینٹی خالصتانی ٹیررسٹ فرنٹ کے درمیان تنازعہ شدت اختیار کر گیاجس سے حالات کشیدہ ہوگئے ہیں ۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق مظاہرین نے انٹرنیشنل اینٹی خالصتانی ٹیررسٹ فرنٹ کے صدر گورسمِرن سنگھ مانڈ کے خلاف ایف آئی آر درج کرکے ان کی گرفتاری کا مطالبہ کیا۔ احتجاج کے باعث قومی شاہراہ NH-44 تقریبا چھ گھنٹے تک بند رہی۔احتجاج میں 1,500کے قریب سکھ مظاہرین نے حصہ لیا۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ 7اگست کو پنجوکھرا صاحب کے قریب گورسمِرن سنگھ مانڈ نے اپنی گاڑی سے عقیدت مندوں کو ٹکر ماری، جس پر ان کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ مانڈ خالصتان کے مطالبے کے مخالف اور بھارتی قوم پرستی کے حامی ہیں جبکہ انہیں Y+سکیورٹی حاصل ہے۔احتجاج میں خالصتان تحریک کے حامی گرفتار نوجوانوں ہرویندر سنگھ اور انمول سنگھ کی فوری رہائی کا بھی مطالبہ کیا گیا۔ مذاکرات ناکام ہونے کے بعد پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس اور لاٹھی چارج کا بے دریغ استعمال کیا۔
ناقدین کاکہنا ہے کہ بھارتی حکومت خالصتان کے مطالبے کو دبانے کے لیے سکھوں کو ایک دوسرے کے خلاف استعمال کر رہی ہے اور خالصتان مخالف عناصر کو مبینہ طور پر سرکاری تحفظ فراہم کیا جا رہا ہے۔ ان کہا کہ حکومت جانبداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے مانڈ کے خلاف کسی بھی قسم کی کارروائی سے گریز کر رہی ہے ۔ناقدین نے مزید کہا کہ بھارت میں سکھوں کے سیاسی مطالبات دبانے کے لیے خالصتان مخالف عناصر کی سرکاری سطح پر مبینہ سرپرستی خطے میں سیاسی بے چینی کو مزید بڑھا رہی ہے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button