کشمیر عوام آزادی کے حصول تک15 اگست کو یوم سیاہ کے طور پر مناتے رہیں گے: فاروق رحمانی

اسلام آباد: جموں و کشمیر پیپلز فریڈم لیگ کے چیئرمین اور کل جماعتی حریت کانفرنس کی آزاد جموں و کشمیر شاخ کے سابق کنوینرمحمد فاروق رحمانی نے کہا ہے کہ جموں و کشمیر کے عوام15 اگست کو اس وقت تک یوم سیاہ کے طور پر مناتے رہیں گے جب تک کہ بھارتی حکومت خطے کے لوگوں کے ساتھ مفتوحہ لوگوں جیسا سلوک کرتی رہے گی، انہیں حق خود ارادیت اورآزادی نہیں دیتی، انہیں جیلوں میں ڈالتی رہے گی اور ان کی جائیدادیں ضبط کرتی رہے گی۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق فاروق رحمانی نے ایک بیان میں مقبوضہ جموں وکشمیرکے بارے میں بھارت کے موقف کی اخلاقی، قانونی اور سیاسی بنیاد پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اس وقت کے بھارتی وزیر اعظم نے رائے شماری میں اپنے پختہ یقین کا اظہارکرتے ہوئے اسے لوگوں کی خواہشات معلوم کرنے کا واحد قابل اعتبار طریقہ قرار دیا تھا۔ لیکن بھارتی قیادت نے نہ صرف کشمیریوں کے ساتھ دغابازی کی بلکہ سلامتی کونسل کی جانب سے استصواب رائے کے حوالے سے بنائے گئے اصولوں اور قراردادوں کی بھی خلاف ورزی کی۔مودی کی بی جے پی حکومت نے مزید آگے بڑھتے ہوئے لوگوں کے بنیادی حقوق کو پامال کیا جب 2019 میں اس نے مقبوضہ ریاست کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے اسے مرکز کے زیر انتظام علاقہ قرار دیا۔ بھارت نے ایک بار پھر فوجی طاقت کے بل پر مقامی باشندوں کو ان کے بنیادی حقوق اور املاک سے محروم کردیا اورنوجوانوں اور خواتین سمیت ہزاروں کشمیریوں کو جیلوں میں نظربند کردیا۔مودی نے مقبوضہ علاقے میں انٹرنیٹ اور موبائل سروسز پر پابندیاں عائد کردیں ،الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کی آزادی چھین لی جبکہ عدالتوںکے پاس انصاف فراہم کرنے کے اختیارات نہیںرہے۔ مودی حکومت نے بیرونی دنیا کو گمراہ کرنے کے لئے ہر سیاسی اور معاشی سرگرمی کو اپنے حق میں تبدیل کرنے کی کوشش کی۔ اس صورتحال میں بھارت کے پاس مقبوضہ جموں وکشمیر میں یوم آزادی منانے کا کوئی اخلاقی او رقانونی جواز نہیں ہے جہاںہزاروں سیاسی رہنما اورکارکن جیلوں میں سڑ رہے ہیں،مقامی شہریوں کی جائیدادیں ضبط کی جارہی ہیں اور لاکھوں بھارتیوں کو کشمیر کے ڈومیسائل سرٹیفکیٹ جاری کیے گئے ہیں۔ا س تاریکی میں کشمیریوں کے پاس بھارت کے یوم آزادی کو یوم سیاہ کے طور پر منانے کے سوا کوئی چارہ نہیں۔محمد فاروق رحمانی نے اقوام متحدہ پر زوردیا کہ وہ جموں و کشمیرکے 79 سالہ سیاسی تنازعے کے منصفانہ اور پائیدار حل کے لیے اپنی متعلقہ قراردادوں پر عمل درآمد کو یقینی بنائے۔






