اسلام آباد: اسپیکر گلگت بلتستان اسمبلی عمران ندیم شگری کی حریت کانفرنس آزاد کشمیر شاخ کا دورہ
اسلام آباد: اسپیکر گلگت بلتستان اسمبلی عمران ندیم شگری نے کل جماعتی حریت کانفرنس آزاد کشمیر شاخ کے اسلام آباد دفتر کا دورہ کیا۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق حریت کنوینر غلام محمد صفی اور جملہ قائدین نے انہیں مقبوضہ جموں و کشمیر کی تازہ ترین صورتحال اسے آگاہ کیا ۔ملاقات کے دوران اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ مسئلہ جموں و کشمیر کے منصفانہ، پرامن، آبرومندانہ اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق حل تک پاکستان، آزاد جموں و کشمیر، گلگت بلتستان کی حکومتیں اور کل جماعتی حریت کانفرنس مل کر عوامی، سیاسی اور سفارتی جدوجہد جاری رکھیں گے۔
کنوینر کل جماعتی حریت کانفرنس غلام محمد صفی نے اسپیکر عمران ندیم شگری کی آمد کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ گلگت بلتستان اور مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام ایک تاریخی، جغرافیائی اور تہذیبی رشتے میں منسلک ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جی بی کے عوام نے ہمیشہ تحریکِ آزادی کشمیر کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا ہے اور ان کا یہ کردار قابل تحسین ہے۔غلام محمد صفی نے کہا کہ مسئلہ جموں و کشمیر کسی ایک خطے یا علاقے کا مسئلہ نہیں بلکہ پوری ریاست جموں و کشمیر کے عوام کے مستقبل کا سوال ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام گزشتہ کئی دہائیوں سے اپنے بنیادی حق، حقِ خودارادیت کے حصول کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں اور اس مسئلے کا پائیدار حل اقوام متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق ہی ممکن ہے۔انہوں نے 5 اگست 2026 کو گلگت بلتستان اسمبلی میں متفقہ طور پر منظور کی گئی کشمیر یکجہتی قرارداد کو سراہتے ہوئے حکومت گلگت بلتستان، معزز اراکینِ اسمبلی، عوام اور خصوصا اسپیکر عمران ندیم شگری کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ قرارداد کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کے لیے ایک مضبوط سیاسی اور اصولی موقف کی عکاسی کرتی ہے۔اس موقع پر کل جماعتی حریت کانفرنس کے قائدین نے اسپیکر گلگت بلتستان اسمبلی کو کل جماعتی حریت کانفرنس کے حالیہ دورہ گلگت بلتستان کے دوران گورنر جی بی اور وزیر اعلی کے ساتھ ساتھ جملہ مذہبی و سیاسی تنظیموں کے سربراہان اور بار ایسوسی ایشن کے ممبران کے ساتھ ملاقاتوں اور عوامی پروگراموں میں بھر پور شرکت پر شکریہ ادا کیا۔ اسپیکر گلگت بلتستان اسمبلی عمران ندیم شگری نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام مسئلہ جموں و کشمیر کی 79 سالہ تاریخ اور اس کی نزاکتوں سے بخوبی واقف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام ایسا کوئی مطالبہ نہیں کرتے جس سے مسئلہ کشمیر کی بین الاقوامی حیثیت متاثر ہو۔ انہوں نے واضح کیا کہ گلگت بلتستان کے عوام ہمیشہ مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ کھڑے ہیں اور ان کے حقِ خودارادیت کی جائز جدوجہد کی حمایت جاری رکھیں گے۔ملاقات میں اس امر پر اتفاق کیا گیا کہ مسئلہ جموں و کشمیر کو اقوام متحدہ کی قراردادوں، بین الاقوامی اصولوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق حل کرنے کے لیے سیاسی، سفارتی اور عوامی سطح پر مشترکہ کوششوں کو مزید مثر بنایا جائے گا۔ملاقات کے اختتام پر مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام کی جدوجہدِ آزادی کی کامیابی، شہدا کے درجات کی بلندی ، مسئلہ کشمیر کے منصفانہ حل اور پاکستان کی سلامتی اور استحکام کے لیے خصوصی دعا بھی کی گئی۔







