بھارت

مودی دماغی نکسل کا لیبل لگاکر اختلاف رائے کو دبانے کی کوشش کررہے ہیں: حزب اختلاف

نئی دہلی:بھارت میں حزب اختلاف کی جماعتوں اور رہنماو¿ں نے وزیر اعظم نریندر مودی کی طرف سے دماغی نکسل کو پہچاننے اور الگ تھلگ کرنے کے مطالبے پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے ملک میں اختلاف رائے کرنے والوں، دانشوروں اور سیاسی حریفوں کو نشانہ بنانے کے لیے ایک نیا لیبل متعارف کرایا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق مودی نے یوم آزادی کے موقع پر اپنی تقریر میں دعویٰ کیا کہ اگرچہ مسلح نکسلیوں کا خاتمہ کر دیا گیا ہے، تاہم دماغی نکسل باقی ہیں اور وہ تشدد اور انارکی کو فروغ دینے کے طریقے تلاش کر رہے ہیں۔ انہوں نے ایسے لوگوں کو پہچاننے اور الگ تھلگ کرنے کا مطالبہ کیا۔اس بیان پر حزب اختلاف کے رہنماﺅں بالخصوص کانگریس کی طرف سے شدید ردعمل سامنے آیا۔سینئر رہنما اور سابق بھارتی وزیر داخلہ پی چدمبرم نے کہاکہ وزیراعظم نے دماغی نکسل کی ایک نئی اختراعی سوچ وضع کی ہے۔ یہ دانشوروں، ادیبوں، اساتذہ، اسکالرز وغیرہ کوشہری نکسل قراردینے کی ان کی نفرت انگیز وضاحت کا نیا تغیر ہے۔انہوں نے کہاکہ مجھے دماغی نکسل ہونے پر فخر ہے۔ انہوں نے خبردارکیاکہ اس طرح کے دماغی نکسلیوں کو ختم کرنا اپوزیشن کو ختم کرنے کے مترادف ہوگا جوایک پارٹی کی حکمرانی اور بالآخر آمریت کے لیے راہ ہموار کرے گا۔کانگریس کے جنرل سیکریٹری جے رام رمیش نے اس اصطلاح کوان کی مایوسی کی علامت قرار دیا جبکہ پارٹی کے رہنما سچن پائلٹ نے کہا کہ اس بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ مودی اور بی جے پی میں نوجوانوں اور طلباءکے سوالات سے ہلچل مچی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو بھی حکومت یا اس کی سیاست کی مخالفت کرتا ہے اسے ملک دشمن کہا جاتا ہے۔سی پی آئی کے جنرل سکریٹری ڈی راجہ نے اس جملے کو اختلاف رائے کو دبانے اور حکومت پر سوال اٹھانے والوں کو دھمکانے کی کوشش قرار دیا۔سی پی آئی (ایم) کے جنرل سکریٹری ایم اے بیبی نے کہا کہ یہ اصطلاح جنتر منتر پر مظاہرہ کرنے والوں سمیت حکومت کے ناقدین اور مظاہرین کے خلاف استعمال کی جا رہی ہے۔ٹی ایم سی کی رکن پارلیمنٹ مہوا موئترا اور کاکروچ جنتا پارٹی کے ترجمان سورو داس نے بھی مودی پر تنقید کی ، انہوں نے حکومت سے سوال کرنے کے لیے صرف تعلیم یافتہ نوجوانوں کو نکسل قرار دینے کی منطق پر سوال اٹھایا اوراسے متکبرانہ قرار دیا ۔سی پی آئی کے رکن پارلیمنٹ پی سندوش کمار نے بھی مودی پر تنقید کرتے ہوئے کہاکہ اگر ہم دماغی نکسل ہیں تو وہ دماغی فرقہ پرست ہیں۔ ہم لوگوں کے لیے لڑتے ہیں، ہمیں دماغی نکسل ہونے پر فخر ہے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button