بھارت

مکہ معاہدے میں شمولیت کی بنگلہ دیش کی خواہش پر بھارتی سیاسی وسفارتی حلقوں میں شدید ہلچل

اسلام آباد: بنگلہ دیش کی جانب سے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے میں شمولیت کی خواہش کے بیان پر بھارت سخت تلملا اٹھا ہے ۔بیان سے بھارتی میڈیا، سیاسی وسفارتی حلقوں میں شدید ہلچل مچا گئی ہے۔
کشمیر میڈیاسروس کے مطابق بھارتی میڈیا اور دفاعی تجزیہ کاروں نے واویلا مچا رکھا ہے کہ اگر بنگلہ دیش اس معاہدے کا حصہ بنتا ہے تو اس سے خطے بالخصوص جنوبی ایشیا کا اسٹریٹیجک نقشہ تبدیل ہو جائے گا۔بھارت اس بات پر فکرمند ہے کہ اس اتحاد میں شمولیت سے بنگلہ دیش اور پاکستان کے درمیان دفاعی اور سفارتی تعلقات مزید گہرے ہوں گے، جو بھارت کے طویل المدتی علاقائی اثر و رسوخ کے خلاف جا سکتے ہیں۔ بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان نے مغربی ایشیا اور اس معاہدے کی پیشرفت پر گہری نظر رکھنے کا اعادہ کیا ہے، جبکہ بھارتی تجزیہ کاروں کی جانب سے اسے بنگلہ دیش کی روایتی غیرجانبدار خارجہ پالیسی میں ایک بڑی تبدیلی قرار دیا جا رہا ہے۔
معاہدے میں شمولیت کے اشارے پر بھارت بنگلہ دیشن کو معاشی دباو¿ اور اس حوالے سے پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی دھمکیاں بھی دینے لگا ہے جو اسکی انتہائی جارحانہ سوچ کا عکاس ہے۔ پاکستان، چین اور دیگر ایشیائی ممالک سے بنگلہ دیش کی قربت کو بھارت ”مشرقی محاذ“ بنا کر پیش کر رہا ہے۔ بھارت کو دراصل بنگلہ دیش کا سیاسی استحکام و ترقی ایک آنکھ نہیں بھا رہا ہے ۔ وہ بنگلہ دیشن کو اپنے اسٹریٹجک دائر اثر میں رکھنا چاہتا ہے اور اسکے خودمختار فیصلوں کو اپنے سکیورٹی خطرہ سمجھتا ہے۔بھارت بنگلہ دیش کے ساتھ مساوی شراکت داری کے دعوے کر رہا ہے لیکن ملکی ترقی و استحکام ، سالمیت کے لیے اسے آزادانہ فیصلوں کا حق دینے کے لیے قطعاً تیار نہیں ہے ، یہ طرز عمل بھارت کی دوغلی پالیسی کا واضح مظہر ہے۔بھارت کو یاد رکھنا چاہیے کہ بنگلہ دیش ایک آزاد واخودمختار ملک ہے ، اسے اپنے سفارتی شراکت داروں کے انتخاب کا حق حاصل ہے اور اس حوالے سے اسے نئی دلی کے اجازت کی کسی طورکوئی ضرورت نہیں ہے ۔ بنگلہ دیش کی خودمختاری کا احترام بھار ت پر لازم ہے۔
یاد رہے کہ بنگلہ دیش نے سعودی عرب، ترکی اور پاکستان کے درمیان رواں ماہ طے پانے والے مکہ دفاعی معاہدے میں شمولیت پر غور شروع کردیا ہے، جبکہ سعودی عرب کی جانب سے ڈھاکا کو باضابطہ دعوت دیے جانے کا بھی انکشاف ہوا ہے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button