آر ایس ایس اور مودی پر تنقید، پبلشر کا سونیا گاندھی کی کتاب چھاپنے سے انکار

نئی دلی:کانگریس کی رہنما سونیا گاندھی کی زیرِ اشاعت یادداشتوں پر مشتمل کتاب” Belonging: A Journey of Love ”کی بھارت میں اشاعت پر تنازعہ کھڑا ہو گیا ہے۔ کانگریس ذرائع کے مطابق پبلشر پینگوئن رینڈم ہاس انڈیا کے ساتھ مسودے پر بات چیت کے دوران کتاب کے تین حصے خصوصی توجہ کا مرکز رہے، جن میں وزیراعظم نریندر مودی کی قیادت ،مرکزی حکومت کی پالیسیاں، راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس )کے کردار شامل ہیں۔کشمیر میڈیاسروس کے مطابق سونیا گاندھی نے کتاب میں نریندر مودی کی قیادت اور طرزِ حکمرانی کے ساتھ ساتھ مرکزی حکومت کی کئی اہم پالیسیوں پر بھی اپنے خیالات کا کھل کر اظہار کیا ہے۔کتاب میں آر ایس ایس کے قومی معاملات اور بھارتی معاشرے پر اثرات سے متعلق سونیا گاندھی کا نقط نظر بھی شامل ہے۔ آر ایس ایس حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی )کی نظریاتی سرپرست تنظیم سمجھی جاتی ہے اور نریندر مودی نے بھی مکمل طور پر سیاست میں آنے سے قبل اس تنظیم میں کام کیا تھا۔
کانگریس ذرائع کے مطابق پینگوئن انڈیا نے کتاب کے بعض حصوں میں ترمیم یا انہیں حذف کرنے کی تجویز دی ہے، تاہم سونیا گاندھی نے اسے مسترد کردیا۔ ان کا موقف ہے کہ کتاب میں شامل حقائق اور آرا ان کے ذاتی تجربے اور نقط نظر پر مبنی ہیں، اس لیے ان میں تبدیلی نہیں کی جا سکتی۔ سونیا گاندھی نے کتاب کے تعارف میں کہا ہے کہ ان کے خاندان کے بارے میں بہت کچھ لکھا جا چکا ہے، تاہم ان کی کتاب خاندان کے افراد کے محرکات، اقدامات اور انسانی کمزوریوں کو ایک مختلف زاویے سے پیش کرتی ہے۔ کتاب میں اٹلی میں ان کے بچپن، بھارت آمد، راجیو گاندھی کی اہلیہ اور اندرا گاندھی کی بہو کی حیثیت سے زندگی، اندرا گاندھی کے قتل، راجیو گاندھی کے قتل، سیاست میں ان کی آمد، کانگریس کی طویل ترین مدت تک صدر رہنے اور 2004 میں وزیراعظم بننے کی پیشکش مسترد کرنے سمیت ان کی زندگی کے اہم ادوار کا احاطہ کیا گیا ہے۔
خیال رہے کہ پینگوئن انڈیا اس سے پہلے 2013 میں مظفر نگر کے مسلم کش فسادات سے متعلق کتاب چھاپنے سے بھی انکار کرچکا ہے۔






