سرینگر: تاجروں نے بجلی کے نرخوں میں اضافے کو مسترد کرتے ہوئے اسے آمرانہ قرار دیدیا

سرینگر :بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں وکشمیر میں سرینگر کے تاجروں نے بجلی کے نرخوں میں اضافے کو مسترد کرتے ہوئے اسے ‘آمرانہ’ قرار دیاہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق تاجروں کا کہنا ہے کہ کٹھ پتلی وزیر اعلی عمر عبداللہ نے بجلی نرخوں میں اضافہ کر کے انکے لیے معاشی بوجھ بڑھا دیا ہے۔ ٹریڈرز الائنس کے صدر نذیر احمد شاہ نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں کہا کہ اس فیصلے سے تجارتی شعبے اور عام گھرانوں دونوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے جو پہلے ہی شدید معاشی دبا کا شکار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے نیشنل کانفرنس کو اپنی امنگوں کی نمائندگی کرنے، اپنی روزی روٹی کے تحفظ اور اپنے بنیادی حقوق کے لیے لڑنے لیے زبردست مینڈیٹ دیا تھا لیکن وہ اب اس نے بجلی کے نرخوں میں بلاجواز اضافے جیسے جوابی اقدامات کے ذریعے عوام کو سخت مایوس کیا ہے۔
نذیر احمد شاہ نے عمر عبداللہ پر زور دیا کہ وہ فوری طور پر اس فیصلے کو واپس لیں، حکومت کو ذاتی یا بیوروکریسی مفادات سے پہلے عوامی مفادات کو مقدم رکھنا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ حکومت جو کچھ کر رہی ہے لوگ اسے کبھی نہیں بھولیں گے۔ انہوں نے تمام تجارتی اداروں، سول سوسائٹی کے ارکان اور عام لوگوں سے مطالبہ کیا کہ وہ اس معاشی ناانصافی کے خلاف متحد ہو جائیں۔






