مضامین

میڈیسن اسکوائر گارڈن میں تاریخ کا ایک اور امتحان

ارشد میر

ہندو فسطائیت کی مادر تنظیم آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت آج نیویارک کے میڈیسن اسکوائر گارڈن میں ’’ Universal Oneness Celebration ‘‘ کے عنوان سے ہونے والی تقریب سے خطاب کررہے ہیں۔ تقریب کا اہتمام کرنے والی امریکن ہندوؤز فار انگیجمنٹ اینڈ ڈائیلاگ منتظمین کے مطابق اس پروگرام میں ہزاروں بھارتی نژاد امریکی شرکت کریں گے جبکہ 200 سے زائد ہندو امریکی تنظیموں نے اس کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔
تاہم نیویارک میں شہری حقوق، مذہبی آزادی اور اقلیتی حقوق کے لیے کام کرنے والی متعدد تنظیموں نے تقریب کی مخالفت کی ہے۔ نیویارک کے میئر زہران ممدانی نے بھی واضح کیا ہے کہ وہ اس اجتماع کی حمایت نہیں کرتے تاہم انھوں نے معذوری کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ شاید ان کے پاس اس پروگرام کو منسوخ کرنے کا اختیار نہیں ہے۔امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی نے بھی آر ایس ایس سے متعلق تشویش ظاہر کرتے ہوئے امریکی حکومت سے اس کے بعض ارکان کے خلاف پابندیوں اور موہن بھاگوت کا ویزا منسوخ کرنے تک پر غور کرنے کی سفارش کی ہے۔
مخالفت کرنے والی تنظیموں کا کہنا ہے کہ آر ایس ایس کا اقلیت کُشی، مذہبی اکثریت پسندی اور نازی طرز کی ہندو قوم پرستی سے متعلق ریکارڈ اسے محض ایک ’’ثقافتی‘‘ تنظیم قرار نہیں دیتا۔ اس تناظر میں امریکی کانگریس کے امیدوار اور نیویارک کے سابق کمپٹرولر بریڈ لینڈر نے میڈیسن اسکوائر گارڈن میں موہن بھاگوت کی ریلی کو 1939 کی نازی ریلی سے مماثل قرار دیا ۔ 1939 میں اسی مقام پر جرمن امریکن بنڈ نے ایک بڑی پرو نازی ریلی منعقد کی تھی۔
موہن بھاگوت کا میڈیسن اسکوائر گارڈن میں خطاب محض ایک سیاسی تقریر نہیں۔ یہ اس سوال کا بھی امتحان ہے کہ امریکہ آزادیٔ اظہار، مذہبی آزادی، مساوات اور جمہوری اقدار کے نام پر کن نظریات کو اپنے سب سے معروف عوامی مقامات میں جگہ دیتا ہے۔
یہاں ایک تاریخی ستم ظریفی بھی موجود ہے جسے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ میڈیسن اسکوائر گارڈن نے 20 فروری 1939 کو جرمن امریکن بنڈ کی ایک بڑی پرو نازی ریلی دیکھی تھی۔ اس اجتماع میں تقریباً 22 ہزار افراد شریک ہوئے تھے اور نازی جرمنی سے متاثر یہ تنظیم یہود دشمنی Anti-Semitic، نسل پرستی اور نازی نظریات کی تشہیر کرتی تھی۔
آج، تقریباً 87 برس بعد، اسی مقام پر ایک ایسی تنظیم کے سربراہ کو خطاب کے لیے لایا جا رہا ہے جس کے نظریاتی ماضی پر فاشزم اور نازی ازم سے تعلق کے حوالے سے سنجیدہ علمی بحث موجود ہے۔ یہ مماثلت کسی سطحی سیاسی نعرے کی پیداوار نہیں بلکہ تاریخ کے ریکارڈ سے جنم لیتی ہے۔
آر ایس ایس کے ابتدائی نظریاتی رہنماؤں کے بارے میں بھی بات صاف ہونی چاہیے۔ ونائک دامودر ساورکر نے 1930 کی دہائی کے اواخر میں جرمنی اور نازی پالیسیوں کا حوالہ دیتے ہوئے ایسی باتیں کیں جنہیں متعدد محققین نے نازی جرمنی اور اس کی نسل پرستانہ پالیسیوں سے متاثرہ ہندو قوم پرستانہ فکر کے تناظر میں زیر بحث لایا ہے۔ علمی تحقیق کے مطابق ساورکر نے جرمنی کی طرف سے یہودی آبادی کے ساتھ روا رکھے گئے سلوک کو ہندوستان کے ’’مسلم سوال‘‘ کے ساتھ جوڑا جبکہ آر ایس ایس کے دوسرے بڑے نظریہ ساز ایم ایس گولوالکر نے اپنی 1939 کی کتاب We, or Our Nationhood Defined میں جرمنی کی طرف سے یہودیوں کو ’’صاف کرنے‘‘ کو نسل پرستی اور قومی فخر کی مثال کے طور پر پیش کیا۔
یہاں اصل سوال ماضی کا حوالہ دینے سے بھی آگے ہے کہ کیا آر ایس ایس نے اس نظریاتی ورثے سے واضح طور پر رجوع کیا ہے؟
اگر جواب نہیں ہے تو پھر محض الفاظ بدل دینے سے نظریہ نہیں بدل جاتا۔ اگر نسل، مذہب اور اکثریتی شناخت کو قومی وفاداری کا پیمانہ بنایا جائے، اگر اقلیت کو مکمل مساوی شہری کے بجائے کسی بڑے قومی وجود میں ضم ہونے یا تابع رہنے کا تصور دیا جائےتو اسے صرف ’’ثقافتی قوم پرستی‘‘ کہہ دینا مسئلے کو حل نہیں کرتا۔ گولوالکر کی ابتدائی تحریر میں غیر ہندو گروہوں کے لیے جو درجہ بندی پیش کی گئی تھی، اس میں مسلمانوں اور عیسائیوں کو ہندو قومی ثقافت کے سامنے اپنی جداگانہ شناخت ترک کرنے یا ماتحت حیثیت قبول کرنے کی طرف دھکیلا گیا تھا اور عین ان ہی خطوط پہ آج بی جے پی کی مودی حکومت ریاستی طاقت اور وسائل کے ساتھ عمل پیرا ہے۔
اسی لیے موہن بھاگوت اگر آج ’’عالمگیر یگانگت‘‘ اور ’’اتحاد‘‘ کی بات کرتے ہیں تو سوال یہ ہوگا کہ یہ اتحاد کس بنیاد پر ہے؟ مساوی شہری حقوق کی بنیاد پر یا اکثریتی قومی شناخت کی بنیاد پر؟ اگر اتحاد کا مطلب یہ ہو کہ مختلف مذاہب اور اقلیتیں ایک غالب مذہبی قومی تصور کے تحت اپنی الگ شناخت کی حیثیت کم کر دیں تو یہ اتحاد نہیں، اکثریت پسندی ہے۔
آر ایس ایس کے ناقدین اسی تضاد کی طرف توجہ دلا رہے ہیں۔ امریکی مذہبی آزادی کے ادارے نے بھی آر ایس ایس کے حوالے سے اکثریت پسندانہ نظریے اور اقلیتوں کے خلاف عدم برداشت پر تشویش ظاہر کی ہے۔اگرچہ آر ایس ایس ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے خود کو ہندو ثقافتی تنظیم قرار دیتی ہے۔
یہاں زہران ممدانی کا مؤقف بھی اہم ہے۔ انہوں نے صاف کہا ہے کہ وہ اس تقریب کی حمایت نہیں کرتے اور ایک ایسے نظریے کے ابھرنے کو تشویش ناک قرار دیا جو لوگوں کو معاشرے سے خارج کرنے پر مبنی ہو۔ ان کا یہ مؤقف اس لیے بھی قابلِ توجہ ہے کہ وہ نیویارک کے پہلے مسلمان میئر ہیں اور خود ایک متنوع اور سیکولر جمہوری ہندوستان کے تصور کی بات کرتے ہیں۔
لیکن امریکہ کے سامنے سوال صرف نیویارک کے میئر کا نہیں، امریکی جمہوریت کا بھی ہے۔
اگر امریکہ اپنی جمہوری روایت، مذہبی آزادی، مساوات اور انسانی حقوق پر فخر کرتا ہے تو اسے یہ ضرور سوچنا چاہیے کہ وہ ایسے نظریاتی گروہوں کو کس حد تک پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے جن پر نسل، مذہب اور اکثریت پسندی کی بنیاد پر معاشرہ تشکیل دینے کے الزامات اور تاریخی شواہد موجود ہیں۔ آزادیٔ اظہار یقیناً بنیادی امریکی قدر ہے مگر آزادیٔ اظہار اور کسی نظریے کی اخلاقی توثیق ایک چیز نہیں ہے۔
یہ بھی درست ہے کہ کسی نجی اجتماع کو صرف نظریاتی اختلاف کی بنیاد پر حکومتی طاقت سے روک دینا امریکی آئینی روایت کے لیے ایک مشکل سوال پیدا کرے گا۔ اسی لیے اصل بحث پابندی سے زیادہ احتساب، شفافیت اور تاریخی سچائی کی ہے۔ میڈیسن اسکوائر گارڈن کا دروازہ کھلا ہے تو سوال یہ ہونا چاہیے کہ اندر آنے والا نظریہ کیا کہتا ہے، اس کی تاریخ کیا ہے اور وہ اپنے ماضی کے بارے میں آج کیا مؤقف رکھتا ہے؟
موہن بھاگوت ’’ Universal Oneness ‘‘ کی بات کریں گے۔ دنیا کو ان کی تقریر سے زیادہ ان کے نظریے کی تاریخ سننی چاہیے۔ کیونکہ کسی تنظیم کے بارے میں فیصلہ صرف اس کے موجودہ نعروں سے نہیں ہوتا بلکہ اس کے بانیوں کی تحریریں، اس کے نظریاتی اصول اور اس کے عملی رویوں پر مبنی تاریخ ہی اس کی شناخت کا اصل حصہ ہوتے ہیں۔
اور میڈیسن اسکوائر گارڈن کی تاریخ شاید اس بحث کو مزید گہرا کر دیتی ہے۔ 1939 میں اسی مقام پر نازی نظریات کے حامی جمع ہوئے تھے۔ 2026 میں سوال یہ نہیں کہ تاریخ دوبارہ بالکل ویسے دہرائی جا رہی ہے یا نہیں بلکہ سوال یہ ہے کہ کیا امریکہ نے تاریخ سے اتنا ضرور سیکھا ہے کہ نفرت، نسل پرستی اور اکثریتی بالادستی کے نظریات کو ’’اتحاد‘‘ اور ’’ثقافت‘‘ کے خوبصورت عنوانات میں لپیٹ کر پیش کیے جانے کی صورت میں بھی انہیں پہچان سکے؟
یہی آج موہن بھاگوت کے خطاب کا اصل امتحان ہوگا۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button