مقبوضہ کشمیر : ضلع کپواڑہ میں دو کارکنوں کی جائیدادیں ضبط
سرینگر: غیر قانونی طور پربھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر کے ضلع کپواڑہ میں بی جے پی کی بھارتی حکومت کے تحت پولیس نے دو کشمیری کارکنوں کی جائیدادیں غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے کالے قانون یو اے پی اے کے تحت ضبط کر لی ہیں۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق پولیس اہلکاروں نے ڈی جی پولیس کے احکامات پر کارروائی کرتے ہوئے ضلع کپواڑہ کے علاقے کاچاما میں 15 کنال زرعی اراضی اور دو رہائشی مکانات ضبط کیے ہیں،جو کشمیری کارکنوں عبدالمجید قریشی اور پرویز احمد قریشی کے نام پر رجسٹرڈ ہیں۔ عبدالمجید قریشی کے بھائی مصطفی قریشی کو بھارتی فورسز نے شہید کردیا تھا جبکہ پرویز احمد قریشی کے والد مصطفی قریشی بھی مقبوضہ علاقے میں بھارتی ریاستی دہشت گردی کا نشانہ بنے تھے۔ بھارتی پولیس کاکہنا ہے کہ عبدالمجید قریشی اور پرویز احمد قریشی دونوں ضلع کپواڑہ میں مبینہ طور پر بھارت مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔ بھارتی قابض حکام اس سے قبل سینئر حریت رہنمائوں اور تنظیموں سے وابستہ جائیدادیں بھی ضبط کی ہیں، جن میں سید علی گیلانی، شبیر احمد شاہ، آسیہ اندرابی، محمد فاروق رحمانی، سید یوسف نسیم، شیخ یعقوب اور جماعت اسلامی جموں و کشمیر سے منسلک جائیدادیں شامل ہیں۔ سرینگر میں کل جماعتی حریت کانفرنس کا صدر دفتر بھی ضبط کیا جا چکا ہے۔ اس کے علاوہ متعدد رہائشی مکانات، دکانیں اور تجارتی عمارتیں بھی اسی نوعیت کے الزامات کے تحت منہدم اور دھماکوں سے تباہ کی گئی ہیں۔ جموں و کشمیر کے الفلاح ٹرسٹ کے زیرِ انتظام تعلیمی اداروں اور اسکولوں کو بھی قابض حکام نے کالے قوانین کے تحت ضبط کرکے بند کر دیا ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں نے کہاہے کہ گھروں کو تباہ ، دکانیں مسماراور جائیدادیں ضبط کرنے سے کشمیریوں کے جذبہ حریت کو کمزور نہیں کیاجا سکتا۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ متنازع علاقے میں بھارت کے وحشیانہ اور غیر قانونی اقدامات کا نوٹس لے۔ سرینگر میں سول سوسائٹی کے ارکان اور انسانی حقوق کے کارکنوں نے جائیدادوں کی ضبطی کو بھارتی حکومت کی وسیع تر حکمتِ عملی کا حصہ قرار دیاہے، جس کا مقصدکشمیریوں کو معاشی طور پر کمزور اور ان کی سیاسی خواہشات کو دبانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ضبطیاںکالے قوانین کے تحت کی جا رہی ہیں اور اگست 2019 میں مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت کی منسوخی کے بعد ان کارروائیوں میں اضافہ ہوا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ اقدامات ایک نوآبادیاتی منصوبے کا حصہ ہیں، جس کا مقصد مقامی کشمیریوں کو بے دخل کرکے اور غیر مقامی افراد بالخصوص ہندوئوں کی آبادکاری میں سہولت فراہم کرنا ہے تاکہ مقبوضہ علاقے کی آبادی کے تناسب کو بگاڑا جاسکے ۔ کشمیر میڈیا سروس کے مطابق، بی جے پی کی زیرِ قیادت بھارتی حکومت نے 2026کے دوران مقبوضہ جموں و کشمیر میں 250سے زائد جائیدادیںضبط کی ہیں، جن میں رہائشی مکانات، زرعی اراضی، دکانیں اور اسکول شامل ہیں ۔








