مقبوضہ جموں و کشمیر

مقبوضہ جموں و کشمیر: بڑھتا ہوا درجہ حرارت، موسم کی بے قاعدگی: پھلوں کی معیشت تباہی سے دوچار

سری نگر:بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں وکشمیر میں بڑھتا ہوا درجہ حرارت اور موسم کی بڑھتی ہوئی بے قاعدگی پھلوں کی اہم معیشت کو شدید نقصان سے دوچار کر رہی ہے۔وادی کشمیر میں سیب کی پیداوار میں تیزی سے کمی آ رہی ہے، جبکہ حالیہ شدید گرمی کی لہروں اور ژالہ باری کے بعد جموں خطے میں آم کی پیدوار میں بھی نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔
’انٹرنیشنل جرنل آف کریٹیو اینڈ اوپن ریسرچ ان انجینئرنگ اینڈ مینجمنٹ‘ میں شائع ہونے والی ایک تحقیق میں جموں و کشمیر میں موسمیاتی تبدیلیوں سے ہونے والے زرعی نقصانات کا جائزہ لیا گیا، جس میں خطے کی سیب اور آم کی معیشت پر خصوصی توجہ مرکوز کی گئی۔ تحقیق سے پتہ چلا کہ موسمِ گرما کے درجہ حرارت میں ہر ایک ڈگری سینٹی گریڈ اضافے کے ساتھ کشمیر میں سیب کی پیداوار میں تقریباً 6.10 فیصد کمی واقع ہوتی ہے۔یہ اثر بارہمولہ ضلع میں نمایاں طور پر زیادہ تھا، جہاں تحقیق کے مطابق موسمِ گرما کے درجہ حرارت میں ہر ایک ڈگری سینٹی گریڈ اضافے پر سیب کی پیداوار میں 19.16 فیصد کمی کا تخمینہ لگایا گیا۔
نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ بڑھتا ہوا درجہ حرارت کشمیر کے باغبانی کے اہم ترین شعبوں میں سے ایک کے لیے بڑھتا ہوا خطرہ بن رہا ہے، کیونکہ درجہ حرارت اور موسمی حالات میں تبدیلیاں فصل کی پیداواری صلاحیت اور معیار کو متاثر کر رہی ہیں۔
اس تحقیق میں 2025 اور 2026 کے دوران بار بار ہونے والی ژالہ باری سے ہونے والے بھاری نقصانات کا بھی احاطہ کیا گیا۔تحقیق کے مطابق ژالہ باری نے کئی اضلاع میں سیب کی 50 سے 90 فیصد فصل کو تباہ کر دیا، جس کے نتیجے میں 6,000 کروڑ سے 7,000 کروڑ روپے کے معاشی نقصان کا تخمینہ لگایا گیا۔
دریں اثنا، جموں میں 2026 کے اوائل میں گرمی کی لہر اور ژالہ باری کے بعد آم کی پیداوار کو بھی شدید دھچکا لگا، اور مقامی آم میں 70 فیصد سے زیادہ کمی واقع ہوئی۔محققین کا کہنا ہے کہ سیب اور آم پر پڑنے والے یہ منفی اثرات موسمیاتی تبدیلیوں کے پیشِ نظر ہمالیائی زرعی نظاموں کے غیر محفوظ ہونے کی عکاسی کرتے ہیں۔
تحقیق میں کشمیر میں زعفران کی پیداوار کا بھی جائزہ لیا گیا اور پتا چلا کہ پیداوار 1990 میں 15.9 میٹرک ٹن سے کم ہو کر 2024-25 میں 2.6 میٹرک ٹن رہ گئی ہے، جو اس عرصے کے دوران تقریباً 68 فیصد کمی کو ظاہر کرتی ہے۔ تحقیق میں زرعی خطرات کی وجہ بڑھتے ہوئے درجہ حرارت، شدید گرمی، خشک سالی، ڑالہ باری اور موسمیاتی تغیر کی دیگر اقسام کو قرار دیا گیا۔محققین کا کہنا تھا کہ باغبانی کا تحفظ نہ صرف زرعی آمدنی بلکہ مقبوضہ جموں و کشمیر کی وسیع تر دیہی معیشت کے لیے بھی اہم ہوگا، جہاں پھلوں کی کاشت بڑی تعداد میں کاشتکار گھرانوں کا ذریعہ معاش ہے۔
دریں اثنا گزشتہ روز(جمعہ ) روز جنوبی کشمیر کے اضلاع شوپیاں اور اسلام آباد کے کچھ حصوں میں ژالہ باری سے سیب کے باغات اور دیگر کھڑی فصلوں کو شدید نقصان پہنچا، جبکہ کسان اپنی فصل کی کٹائی شروع کرنے کی تیاری کر رہے تھے۔
کسانوں نے بتایا کہ شام 6 بجے کے قریب شوپیاں کے گاو¿ں میلہورہ میں شدید ڑالہ باری ہوئی، جس سے علاقے کے باغات میں موجود سیبوں کو نقصان پہنچا۔طوفان کے ساتھ بارش بھی ہوئی، جس سے کٹائی کے موسم سے قبل کاشتکاروں کے خدشات میں مزید اضافہ ہو گیا۔
علاقے کے سیب کے کاشتکار جاوید احمد نے کہا، بارش کے بعد ژالہ باری ہوئی، جس سے سیب کی فصل کو نقصان پہنچا۔
کسانوں کا کہنا ہے کہ اس مرحلے پر ہونے والا نقصان پھل کے معیار اور اس کی مارکیٹ میں فروخت کی صلاحیت، دونوں پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔دو درجن سے زائد دیہات کے کسانوں نے ژالہ باری اور تیز ہواو¿ں کے باعث باغات کو نقصان پہنچنے کی اطلاع دی تھی۔
کچھ متاثرہ علاقوں میں کسانوں نے فصل کے نقصان کا تخمینہ 90 فیصد سے زیادہ لگایا ہے۔ کاشتکار شدید تشویش سے دوچار ہو گئے خاص طور پر ایسے وقت میں جب سیب کی کٹائی کا عمل ایک اہم مرحلے میں داخل ہو رہا ہے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button