گریز میں ”تنتر سائلنس“ پروگرام سے ثقافتی شناخت کے حوالے سے خدشات میں اضافہ
سرینگر: غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں حریت رہنماﺅں، علمائے دین اور سیاست دانوں سمیت مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افرادنے ”تنتر سائلنس“جیسے پروگراموں پر تشویش کا اظہار کیا ہے جو خطے کی منفرد مذہبی اور ثقافتی شناخت کو متاثر کر سکتے ہیں۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق یہ خدشات مجوزہ ”تنتر سائلنس “ کے لئے تشہیری مہم کے بعد مزید بڑھگئے ہیں جو 24 سے 27 ستمبر تک وادی گریز میں منعقد ہورہاہے۔ اس پروگرام کو مراقبے پر مبنی گوشہ نشینی کے طور پر مشتہر کیا گیا ہے جس کے سہولت کار سوامی دھیان سمِت ہیں۔ پروگرام میں مراقبہ، ساو¿نڈ ہیلنگ اور باطنی تبدیلی کے سیشن شامل ہیں۔
کل جماعتی حریت کانفرنس کے سینئر رہنما میر واعظ عمر فاروق ، مفتی اعظم مفتی ناصرالاسلام اور پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر محبوبہ مفتی نے بھی اعتراضات اٹھائے ہیں۔میر واعظ نے کہا ہے کہ گریز ”صوفیوں اور بزرگوں کی سرزمین“ ہے ،انہوں نے حکام سے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا ہے۔ مفتی ناصرالاسلام نے کہا کہ خطے کے مذہبی، ثقافتی اور سماجی تشخص کی قیمت پر سیاحت کو فروغ نہیں دیاجاسکتا۔
سیاسی تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ مجوزہ پروگرام نے کشمیر کی مقامی مذہبی اور ثقافتی روایات کے تحفظ کے حوالے سے بحث کو ایک بار پھر اجاگر کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ خطے میں سیاحت، ثقافت یا روحانیت سے متعلق کسی بھی اقدام میں مقامی آبادی کی تاریخی حیثیت اور حساسیت کو مدنظر رکھا جانا چاہیے۔انہوں نے کشمیریوں کی جانب سے تاریخی مقامات اور اداروں کے ناموں کی تبدیلی کے حوالے سے ظاہر کئے گئے خدشات کے ساتھ ساتھ اگست 2019 کے بعد مذہبی مقامات اور اداروں سے متعلق پیدا ہونے والے تنازعات کی طرف بھی اشارہ کیا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ان اقدامات سے کشمیری آبادی کے بعض طبقات میں اپنے ثقافتی اور مذہبی ورثے کے تحفظ کے حوالے سے خدشات کو مزید تقویت ملی ہے۔انہوں نے کہا کہ کشمیر کی مسلم اور صوفی روایات صدیوں کے دوران پروان چڑھی ہیں اور آج بھی وادی کے سماجی اور ثقافتی ڈھانچے میں گہری جڑیں رکھتی ہیں۔ ان کے مطابق ان روایات کو نظراندازکرنے یا ان کی جگہ کسی اور روایت کو فروغ دینے کی کسی بھی کوشش سے عوامی تشویش اور مزاحمت پیدا ہونے کا امکان ہے۔
تجزیہ کاروں نے کہا کہ گریز کے معاملے کو اس وسیع تر سوال کے تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے کہ مقبوضہ جموں وکشمیرمیں ثقافتی اور سیاحتی پالیسیاں کس طرح تشکیل دی جاتی ہیں، خصوصاً ان علاقوں میں جہاں تاریخی، مذہبی اور سماجی شناخت نمایاں اور منفرد ہے۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ کشمیری اپنے مقامی مذہبی اور ثقافتی ورثے سے گہری وابستگی رکھتے ہیں اور جب بھی انہیں یہ محسوس ہوگا کہ اس ورثے کو کمزور کیا جا رہا ہے تو وہ اپنے خدشات کا اظہار کرتے رہیں گے۔






