جموں و کشمیر کی متنازعہ حیثیت ظاہر کرنے والے اقوام متحدہ کے نقشے کا خیرمقدم
سرینگر :جموں کشمیر یونائیٹڈ کونسل ،جموں و کشمیر فریڈم موومنٹ اور گلوبل پیس موومنٹ جموں وکشمیر نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ کے نقشہ نمبر 4668 کی حیثیت برقرار رہنے سے ایک بارپھرجموں و کشمیر کی متنازعہ حیثیت کی توثیق اور خطے پر بھارت کے یکطرفہ دعووں کی نفی ہوئی ہے ۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق تینوں تنظیموں نے ایک مشترکہ بیان میں 4 ستمبر 2026 کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی جانب سے ایک قرارداد کی منظوری کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ اس قرارداد سے جموں و کشمیر کے حوالے سے اقوام متحدہ کے قائم شدہ نقشہ جاتی طریقہ کار میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔ جنرل اسمبلی نے یہ قرارداد 164 ووٹوں کی حمایت سے منظور کی ، یہ قرارداد بنیادی طور پر عالمی نقشوں کی پروجیکشن سے متعلق ہے، یہ علاقائی حیثیت، خودمختاری یا موجودہ سرحدی انتظامات میں کوئی تبدیلی نہیں کرتی۔ تینوں تنظیموں نے کہا کہ اقوام متحدہ کے جیو اسپیشل انفارمیشن سیکشن کی جانب سے شائع کردہ نقشہ نمبر 4668 کا مسلسل استعمال کشمیر کے لیے اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ اس نقشے میں خطے کو متنازعہ قرار دیا گیا ہے اور درج ہے کہ ”جموں و کشمیر کی حتمی حیثیت پر فریقین کے درمیان ابھی تک اتفاق نہیں ہوا۔“
انہوں نے کہا کہ نقشے میںکنٹرول لائن کو بین الاقوامی سرحد کے بجائے نقطہ دار لکیر کے طور پر دکھایا گیا ہے، جس سے اقوام متحدہ کی جانب سے کنٹرول لائن اور بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ سرحد کے درمیان فرق برقرار رہتا ہے۔تنظیموں نے کہا کہ اقوام متحدہ کا نقشہ جاتی موقف یہ بھی ظاہر کرتا ہے کہ بھارت کے یکطرفہ آئینی اقدامات جموں و کشمیر کی بین الاقوامی طور پر متنازعہ حیثیت کا فیصلہ نہیں کر سکتے۔انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ بھارت پر دباو ڈالے کہ وہ جموں و کشمیر سے متعلق اپنے سرکاری نقشوں کو اقوام متحدہ کے نقشہ جاتی موقف سے ہم آہنگ کرے اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق تنازعے کے حل کے لیے اقدامات کرے۔
تنظیموںنے کہا کہ اقوام متحدہ کی جانب سے جموں و کشمیر کو مسلسل ایک متنازعہ خطے کے طور پر دکھانا اس بات کا مظہر ہے کہ تنازعہ ابھی حل طلب ہے اور اسے یکطرفہ سیاسی یا نقشہ جاتی اقدامات کے ذریعے ختم نہیں کیا جا سکتا۔انہوں نے بھارت سے مطالبہ کیا کہ وہ مقبوضہ جموں و کشمیر میںغیر آئینی اور غیر انسانی اقدامات ترک کرے اور تنازعہ کشمیرکے پرامن حل کے لئے ٹھوس اقدامات کرے۔تنظیموں نے بھارت پر زور دیا کہ وہ تنازعہ کشمیر سے متعلق اپنے وعدوں کا احترام کرے اور ایسے تصفیے کے لئے اقدامات کرے جس میں کشمیری عوام کی امنگوں کو مدنظر رکھا جائے۔








