مقبوضہ جموں وکشمیر: پاکستانی قیدی جیل میں پر اسرار حالات میں انتقال کر گیا
جموں:جموں: غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں جموں خطے کی کوٹ بھلوال جیل ایک پاکستانی قیدی کی پر اسرار حالات میں موت واقع ہوئی ہے۔
پنجاب کے شہرسرگودھا کے رہائشی شاہدعمر ان کو بھارتی بارڈر سیکورٹی فورس(بی ایس ایف) نے 2024میں جموں کے مکوال سیکٹر میں نادانستہ طور پرسرحد عبورکرنے کے دوران گرفتار کر لیا تھا ۔گرفتاری کے بعد ان پر کشمیریوں کی جدوجہد آزادی سے وابستہ ہونے کا بھونڈا الزام لگایا گیا اور اس حوالے سے انکے خلاف کئی جھوٹے مقدمات قائم کیے گئے۔
غیر قانونی طورپر نظر بند دیگر کشمیریوں کی طرح شاہد کو بھی جیل میں طبی سمیت تمام بنیادی سہولیات سے محروم رکھا گیاتھا ۔ نظربندوںکو عدالت میں بھی پیش نہیں کیا جاتا جسکا مقصد ان کی نظربندی کی طول دینا ہوتا ہے۔
بھارتی حکام نے دعوی کیا ہے کہ شاہد عمران اپنی کوٹھری میں بے ہوش حالت میں پایا گیا۔ انہوں نے اپنے روایتی جھوٹ اوربے بنیاد پروپیگنڈے کا سہارا لیتے ہوئے کہا ہے کہ شاہدعمران نے خود کشی کی ہے۔
انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہناہے کہ ایسی اموات شدید ذہنی و جسمانی تشدد، طبی غفلت اور دورانِ حراست غیر انسانی حالات کے باعث ہوتی ہیں۔انہوںنے کہاکہ نادانستہ طور پر سرحد عبور کرنے والے کسی شخص پر دہشت گردی کا الزام لگا کر اسے سلاخوںکے پیچھے ڈال دینا عالمی قوانین اور اصول و ضوابط کی سنگین خلاف ورزی ہے ، تاہم دنیا کانام نہاد جمہوری ملک ان قوانین کی مسلسل دھجیاں اڑا رہاہے۔
یاد رہے کہ آزادجموں وکشمیر راولاکوٹ سے تعلق رکھنے والے ضیا مصطفی بھی کوٹ بھلوال جیل میں اکتوبر 2021 میں بہیمانہ تشدد کی وجہ سے چل بسا تھا۔محمد علی حسین نامی پاکستانی شہری کابھی اگست 2022 اسی جیل میں انتقال ہو گیا تھا۔ثنا اللہ رانجے نامی پاکستانی شہری جیل حکام کے شدید تشدد کے باعث مئی 2013 میںکوٹ بھلوال جیل میں انتقال کر گیا تھا۔
بھارت کے نیشنل ہیومن رائٹس کمیشن (این ایچ آر سی )کے اعداد و شمار کے مطابق اپریل 2021 اور مارچ 2025 کے درمیان بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کی جیلوں میں دوران حراست 8 اموات ہوئیں ۔
انسانی حقوق کی تنظیمیں مسلسل یہ آوازاٹھاتی رہی ہیں کہ کوٹ بھلوال اور ڈسٹرکٹ جیل کپواڑہ میں گنجائش سے زیادہ قیدیوں کی موجودگی، طبی سہولیات کا فقدان اور دوران حراست تشددان اموات کا سبب ہیں۔







