مقبوضہ جموں و کشمیر

لداخ: بی جے پی کے 4 کونسلرز کے استعفوں نے کرگل ہل کونسل کو نئے بحران سے دوچار کر دیا

کرگل: بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں وکشمیر کے خطے لداخ میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی )کے چار کونسلرز کے اچانک استعفوں نے لداخ آٹونومس ہل ڈیولپمنٹ کونسل ( ایل اے ایچ ڈی سی )،کارگل کو ایک نئے سیاسی بحران میں ڈال دیا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق یہ استعفے لداخ کی نئی انتظامی تنظیمِ نو، پانچ نئے اضلاع کے قیام اور نئی ہل کونسلوں کے اعلان کے بعد سامنے آئے ہیں۔ مستعفی ہونے والے کونسلرز کا موقف ہے کہ لداخ میں نئے اضلاع بننے کے بعد کئی ایسے علاقے جو پہلے کارگل ہل کونسل کے دائرہ اختیار میں تھے، اب دیگر اضلاع کا حصہ بن چکے ہیں۔ اس سے کونسل کی موجودہ جغرافیائی اور نمائندگی کی ساخت تبدیل ہو گئی ہے۔ استعفی دینے والے چاروں کونسلرز جن میں ستانزان لاکپا، پدما دورجے، رگزن گورمیت اور نامگیال پھنچوک شامل ہیں نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ کونسل کی حدود کی فوری نئی حد بندی کی جائے اور اس کے بعد نئے سرے سے انتخابات کرائے جائیں۔
کونسلرز نے کونسل کے بجٹ کو پاس کرنے میں ہونے والی تاخیر کو بھی ایک وجہ قرار دیا، جس کی وجہ سے ترقیاتی کام متاثر ہو رہے ہیں.۔ 30 ارکان پر مشتمل کارگل ہل کونسل میں بی جے پی کے کل 6 کونسلرز تھے، جن میں سے 4 نے استعفی دے دیا ہے۔ ان استعفوں کے بعد کونسل کے چیئرمین اور چیف ایگزیکٹو کونسلر ڈاکٹر محمد جعفر اکھون کی اکثریت اور موجودہ کونسل کے مستقبل پر سنگین سوالات کھڑے ہو گئے ہیں، کیونکہ اب انہیں ہاوس میں اپنی اکثریت ثابت کرنی ہوگی۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button