بھارت

دلی فسادات میں میرے ملوث ہونے کے کوئی ثبوت نہیں ہیں،رقم یا ہتھیار برآمد نہیں ہوئے، عمر خالد

نئی دلی:دلی مسلم کش فسادات میں گرفتار عمر خالد نے ضمانت طلب کرتے ہوئے سپریم کورٹ کو بتایا ہے کہ ایسا کوئی ثبوت نہیں ہے جس سے تشدد سے انکا تعلق ثابت ہو سکے۔ خالد کی طرف سے سینئر ایڈووکیٹ کپل سبل سپریم کورٹ میں پیش ہوئے۔
کشمیر میڈیاسروس کے مطابق کپل سبل نے جسٹس اروند کمار اور جسٹس این وی انجریا پر مشتمل بنچ کو بتایا کہ عمر خالد سے رقوم یا ہتھیار برآمد نہیںہوئے جس سے انکا 2020کے فسادات سے انکا تعلق جوڑا جاسکے ۔ انہوںنے کہا کہ 751ایف آئی آر درج کیے گئے اور صرف ایک میں میرے موکل (عمر) پر الزامات عائد کیے گئے ، اگر عمر خالد نے فسادات کی سازش رچی تھی تو جن تواریخ پر فسادات ہوئے اس وقت وہ دلی میں نہیں تھا ۔ سبل نے کہا کہ کسی بھی گواہ کے بیان سے عمر کو تشدد کی کسی حرکت سے جوڑا نہیں جاسکتا، وہ مساوات کی بنیادپر ضمانت کا مستحق ہے ۔
سبل نے مزید کہا کہ دلی ہائیکورٹ نے ضمانت دینے سے انکار کرتے ہوئے امراوتی میں 17فرور 2020کو کی گئی عمر خالد کی تقریر کر اشتعال انگیز قرار دیا ہے ، یہ تقریر یوٹیوب پر دستیاب ہے ۔ انہوںنے سپریم کورٹ کو بتایا کہ یہ جلسہ میں کی گئی تقریر تھی جس میںعمر نے گاندھیائی اصولوں کے بارے میں بات کی تھی ۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button