اسلام آباد :جوناگڑھ کی آزادی کیلئے جدوجہد جاری رکھنے کے حق میں قراد دار کی منظوری


اسلام آباد 15ستمبر ( کے ایم ایس) اسلام آباد میں جونا گڑھ پر منعقدہ یک روزہ قومی کانفرنس نے ایک قرارداد منظور کی ہے جس میں ریاست جوناگڑھ کی خودمختاری ، علاقائی سالمیت اور سیاسی آزادی کے احترام کا اعادہ کیا گیا۔کشمیر میڈیا سروس کے مطابق مسلم انسٹی ٹیوٹ کے زیر اہتمام کانفرنس کے شرکانے جوناگڑھ کی آزادی کے لیے پرامن جدوجہد جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا اور کہا کہ وہ جوناگڑھ ریاست پر قانونی دعوے سے کبھی پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ شرکاءنے 14 اگست 2021 کو منظور شدہ جوناگڑھ قرارداد کے چودہ نکات اور نواب آف جوناگڑھ کے پالیسی بیانات کو دہرایا۔نکات درج ذیل ہیں:
(۱)پاکستان پر زور دیا گیا کہ وہ 1972کے صدارتی آرڈیننس نمبر 15میں ترمیم کرے جو کہ براہ راست جوناگڑھ کے الحاق کے آلے کے آرٹیکل 9سے متصادم ہے جس پر جونا گڑھ کے خودمختار حکمران نواب مہابت خان اور بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح ؒ نے دستخط کیے تھے۔( ۲)حکومت کو تجویز دی گئی کہ ہر برس 15ستمبر کے روز کو جونا گڑھ کے الحق کے دن اور 9نومبر کے دن کو جوناگڑھ کے یوم سیاہ کے طور پر منانے کیلئے اس حوالے سے قومی اور عالمی کانفرنسوں کا انعقاد اور صدر اور وزیر اعظم مذکورہ موضوع پر پالیسی بیان جاری کر سکتے ہیں۔( ۳)حکومت پاکستان کی توجہ پارلیمنٹ اور سینٹ کا مشترکہ اجلاس بلانے جس میں جوناگڑھ ریاست پر پاکستان کے علاقائی دعوے کا اعلان اور ریاست کے بارے میں مشترکہ یکجہتی قرارداد اپنانے کی طرف مبذول کرائی گئی۔(۴)حکومت پاکستان سے درخواست کی گئی کہ کشمیر سیکرٹریٹ کی طرح جونا گڑھ سیکرٹریٹ قائم کیا جائے جس اس مسئلے کو وسیع پیمانے پر اجاگر کر ے گا۔(۵)حکومت پاکستان سے درخواست کی گئی کہ وفاتی دارالحکومت میں جونا گڑھ ہاﺅس قائم کیا جائے تاکہ جونا گڑھ پر اپنا علاقائی دعویٰ کیا جاسکے۔ (۶)جونا گڑھ کے حوالے سے قومی بیانیہ اور حکومت عملی تیار کرنے کیلئے ایک وزارتی کمیٹی بنانے کی تجویز دی گئی جس میں وزارت قانون ، وزارت خارجہ ریاستوں اور سرحدی علاقوں کی وزارت ، وزارت دفاع اور کابینہ ڈویژن کے ارکان شامل ہوں۔(۷)دفتر خارجہ پاکستان پر زور دیا گیا کہ وہ اس مسئلے کو اٹھائے اور وقتا فوقتاًسرکاری بیانات کے ذریعے اس کی قانونی حیثیت کی وکالت کرتا رہے۔ دفتر خارجہ کو اس مقصد کیلئے جوناگڑھ پر ایک ڈیسک بھی قائم کرنا چاہیے ۔(۸)جوناگڑھ ریاست کا قومی گڑٹ شائع کرنے پر زور دیا گیا۔ (۹)حکومت پاکستان سے درخواست کی گئی کہ جوناگڑھ سے متعلق پائیدار اور طویل مدتی قومی پالیسی بنائی جائے اور ریاستی سطح کے دوروں کے دوران جونا گڑھ کاز کیلئے عالمی حمایت کیلئے لابنگ کی جائے۔(۰۱)اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ جونا گڑھ سے متعلق موضوعات کو قومی نصاب میں شامل کیا جائے۔ (۱۱)ہائر ایجوکیشن کمیشن پر زور دیا گیا کہ وہ ملک کی پانچ اعلی جامعات میں جونا گڑھ چیئر کا قیام عمل میں لائے۔(۲۱)پرنٹ اور الیکڑانک میڈیا کو چاہیے کہ وہ جونا گڑھ معاملے کو مناسب کوریج دیں۔(۳ٍ۱)نئے سیاسی نقشے کے حوالے سے ڈاک ٹکٹ جاری کرنے پر پاکستان پوست کو مبارکباد دی گئی اور مزید مطالبہ کیا گیا کہ پاکستان پوسٹ کو قومی ہیرو نواب مہابت خان کی تصویر پر مشتمل ایک خصوصی ڈاک ٹکت جاری کرنا چاہیے ۔ (۴۱)پاکستان کی تمام سیاسی جماعتوں پر زور دیا گیا کہ کہ وہ جونا گڑھ کے مسئلے کو اپنے اپنے سیاسی منشور کا مستقل حصہ بنائیں ۔
قبل ازیں کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے زور دیا کہ جونا گڑھ قانونی طور پر پاکستان کا لازمی جزو ہے کیونکہ الحاق کا ایک حقیقی اصول موجود ہے جس پر اس وقت کے نواب آف جونا گڑھ نواب مہابیت خان قائد اعظم محمد علی جناح نے15 ستمبر 1947کو دستخط کیے تھے۔ انہوںنے کہا کہ بھارت نے جونا گڑھ ریاست پر نومبر 1947میں جارحیت کر کے غیر قانونی طور پر قبضہ کر لیا۔ جونا گڑھ ریاست کے نواب محمد جہانگر خان نے اپنے صدارتی کلمات میں وزیر اعظم عمرا ن خان اور انکی حکومت کا شکریہ ادا کیا کہ انہوںنے سیاسی نقشے کے ذریعے جوناگڑھ کو پاکستان کا حصہ بنانے کے اپنے موقف کا اعادہ کیا۔ انہوںنے کہا کہ انہیں یہ جان کر خوشی ہوئی ہے کہ پاکستان جوناگڑھ ریاست کو نہیں بھولا اور جس طرح اسکا میڈیا ، علماءاور ریاست اس مسئلے کے بامعنی حل کیلئے اپنی جدوجہد کو دوبارہ زندہ کر رہے ہیں اس سے یہ ثابت ہوا ہے کہ ”جونا گڑھ پاکستان ہے“۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: