بھارت مقبوضہ کشمیرمیں جدوجہد آزادی کو دبانے کے لیے تشدد کو بطور ہتھیار استعمال کر رہا ہے، رپورٹ

اسلام آباد 26 جون (کے ایم ایس) بھارت جموںوکشمیر پر اپنے غیر قانونی تسلط کو طول دینے اور حق خود ارادیت کے حصول کی کشمیریوں کی جدوجہد کو دبانے کے لیے بڑے پیمانے پر جسمانی اور نفسیاتی تشدد کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے شعبہ تحقیق کی طرف سے آج” تشدد کے متاثرین کی حمایت “کے عالمی دن پر جاری کی گئی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ بھارتی فوجیوں نے اپنی ریاستی دہشت گردی کی مسلسل کارروائیوں کے دوران جنوری 1989 سے اب تک 96ہزار 79کشمیریوں کو شہید کیا جن میں سے 7ہزار 2سو 42کو دوران حراست حراست اورجعلی مقابلوں میں شہید کیا گیا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارتی فوجیوں اور پولیس اہلکاروں نے 1989 سے اب تک محاصروں اور تلاشی کی کارروائیوں کے دوران خواتین اور بچوں سمیت 1لاکھ64ہزار9سو6 کشمیریوں کو گرفتار کیا۔ بھارتی فوجیوں ، پیرا ملٹری اور پولیس اہلکاروں نے گرفتار افراد کو مختلف تفتیشی مراکز، تھانوں اور جیلوں میںجسمانی اور ذہنی تشدد کا نشانہ بنایا۔ قابض بھارتی فورسز اہلکاروں نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں بیگناہ لوگوں پر تشدد اپنا وطیرہ بن لیا ہے۔ رپورٹ کہا گیا ہے کہ بھارتی فوجیوں اور پولیس اہلکاروں کی طرف سے مقبوضہ علاقے میں لوگوں پر فائرنگ، پیلٹ بندوقوں کے استعمال، آنسو گیس کی شیلنگ اور ان پر ایک منصوبہ بند طریقے سے تشدد کے باعث سے 2000 سے اب تک مرد، خواتین اور بچوں سمیت 96ہزار 6سو22 کشمیری زخمی ہو چکے ہیںجن میں 19 ماہ کی حبا جان، 8 سالہ شاہد فیاض، 9 سالہ اویس احمد، 10 سالہ آصف احمد شیخ، 16 سالہ عاقب ظہور، 17 سالہ الفت حمید،17سالہ بلال احمد بٹ ، 17، انشاءمشتاق، 18 سالہ طارق احمد گوجری، 19 سالہ فیضان اشرف تانترے، 19 سالہ ندیم، 15سالہ ساحل حمید بٹ، عفرا، شبروزہ، پرویز احمد، 20 سالہ دانش رجب، 24 سالہ شکیلہ، 30 سالہ زاہد نثار، 14 سالہ یاور یوسف، قیصر احمد اور 22 سالہ عارف احمد وگے پیلٹ لگنے سے ایک یا دونوں آنکھوں کی بینائی کھو چکے ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا کہ بھارتی فورسز نے مقبوضہ کشمیر میں متعدعقوبت خانے قائم کر رکھے ہیں جہاں معلومات اور اعترافی بیانات حاصل کرنے کے لیے کشمیریوں وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ کارگو، ہرینواس، پاپا1 ، پاپا2 بدنام زمانہ تفتیشی مراکز ہیں جہاں پوچھ گچھ کے دوران شدید تشدد کے باعث ہزاروں کشمیری اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ کل جماعتی حریت کانفرنس کے سرکردہ رہنما محمد اشرف صحرائی بھی زیر حراست انتقال کر گئے جب کہ ممتاز آزادی پسند رہنما محمد مقبول بٹ اور محمد افضل گورو کو جعلی مقدمات کی بنیاد پر پھانسی دی گئی ۔رپورٹ میں کہا گیا کہ کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین مسرت عالم بٹ، شبیر احمد شاہ، محمد یاسین ملک، آسیہ اندرابی، نعیم احمد خان، فہمیدہ صوفی، ناہیدہ نسرین، الطاف احمد شاہ، ایاز محمد اکبر، غلام احمد گلزار، پیر سیف اللہ، راجہ معراج الدین کلوال، شاہد الاسلام، فاروق احمد ڈار، ڈاکٹر محمد قاسم فکتو، مشتاق الاسلام، محمد یوسف میر، محمد یوسف فلاحی، محمد رفیق گنائی، حیات احمد بٹ، سید شاہد یوسف، سید شکیل یوسف، غلام قادر بٹ، ڈاکٹر محمد شفیع شریعتی، انسانی حقوق کے محافظ، خرم پرویز، محمد احسن انٹو، صحافی، آصف سلطان، فہد شاہ سمیت ہزاروں کشمیری کالے قوانین پبلک سیفٹی ایکٹ ، یو اے پی اے کے مقوضہ علاقے اور بھارت کی جیلومیں بند ہیں۔
رپورٹ میں نشاندہی کی گئی کہ مقبوضہ کشمیر کے لوگوں کی زندگی 05 اگست 2019 کے بعد سے جہنم بن چکی ہے جب نریندر مودی کی قیادت میں فسطائی حکومت نے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مقبوضہ علاقے کی خصوصی حیثیت کو منسوخ کر کے اسکا فوجی محاصرے کر لیا تھا۔رپورٹ میں کہا گیا بھارت نے مقبوضہ جموں و کشمیر کو دنیا کی سب سے بڑی جیل تبدیل کر دیا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ بھارت گزشتہ سات دہائیوں سے کشمیریوں کی نسل کشی کر رہا ہے اور 05 اگست 2019 سے قتل و غارت گری میں بڑے پیمانے پر اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ کشمیری نوجوانوں کو گھروں سے اٹھا کر جعلی مقابلوں میں قتل کر نے کے بعد نامعلوم مقامات پر دفن کر دیا جاتا ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارت کو چاہیے کہ وہ انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں کو مقبوضہ علاقے تک غیر مشروط رسائی دے تاکہ وہ وہاں انسانی حقوق کی صورتحال کا از خود جائزہ لے سکیں ۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ کشمیری بدترین بھارتی تشدد اور مذموم ہتھکنڈوں کے باوجود اپنی تحریک آزادی کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے پرعزم ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ عالمی برادری بالخصوص اقوام متحدہ کو مقبوضہ علاقے میں غیر قانونی بھارتی اقدامات اور وحشیانہ تشدد کا نوٹس لینا چاہیے اور کشمیریوں کو بھارتی مظالم سے بچانے کے لیے بڑے پیمانے پر آگے آنا چاہیے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: