تازہ ترین

مقبوضہ کشمیرمیں گروپ20کے سربراہ اجلاس کا انعقاد بے سوداور گمراہ کن مشق ہے ، فاروق رحمانی

cropped-farooq_rehmani-march-2013اسلام آبا د28 جون (کے ایم ایس)

کل جماعتی حریت کانفرنس آزاد جموں و کشمیر شاخ کے سابق کنوینر محمد فاروق رحمانی نے G-20ممالک سے اپیل کی ہے کہ وہ جموں و کشمیر کے متنازعہ علاقے میں گروپ کے سربراہ اجلاس کے انعقاد کے پس پردہ بھارت کے حقیقی مذموم عزائم کا ادراک کریں۔
محمد فاروق رحمانی نے اسلام آباد میں جاری ایک بیان میں G-20کے مقبوضہ علاقے میں سربراہ اجلاس کے انعقاد پر سوال اٹھایا جہاں بھارتی فوجیوں کی طرف سے بڑے پیمانے پر انسانی حقوق کی سنگین پامالیاں جاری ہیں اور بھارت کی فسطائی حکومت نے اگست 2019میں جموںو کشمیر کی خصوصی حیثیت منسوخ کر کے کشمیری عوام کے خلاف جنگ شروع کر رکھی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ اس پس منظر میںجموں و کشمیر دنیا کا وہ واحد متنازعہ علاقہ ہے جہاںکوئی بین الاقوامی کانفرنس منعقد کی جارہی ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ بین الاقوامی کانفرنس کے انعقاد کی خبر نے جموں و کشمیر میں ہلچل مچا دی ہے، جہاں مودی کی ہندوتواحکومت نے صدیوں سے جاری جموں وکشمیر کی مسلم اکثریتی شناخت کو تبدیل کرنے کیلئے متعدداہم قوانین میں ترامیم کردی ہے ۔ محمد فاروق رحمانی نے کہاکہ مقبوضہ علاقے میں مستقل رہائش اختیار کرنے کیلئے لاکھوں غیر کشمیری ہندوئوں کو مقبوضہ کشمیر کے ڈومیسائل سرٹیفیکیٹس جاری کئے گئے ہیں تاکہ وہ متنازعہ علاقے میں زمینیں خریدیںاورآباد ہوں اورسرکاری ملازمتیں حاصل کریں۔ انہوں نے کہا کہ مقامی لوگوںکو سرکاری ملازمتوں سے برطرف کیاجارہا ہے اور سرکاری دفاتر کو غیر کشمیریوں کے کنٹرول میں دے دیاگیا ہے اور مقبوضہ علاقے میں کوئی دن ایسا نہیں گزرتا جب کشمیری نوجوانوں کی گرفتاری، قتل عام اور ظلم وتشددکا نشانہ نہ بنایا گیا ہو۔انہوں نے کہاکہ حال ہی میں ممتاز کشمیری حریت رہنما محمد یاسین ملک کوغیر منصفانہ طورپرعمر قید کی سزا سنائی گئی اور مزید کشمیری رہنمائوں کو ان کی جدوجہد آزادی کی پاداش میں تادم مرگ عمر قید کی سزا سنائی جاسکتی ہے ۔انہوں نے کہاکہ ہزاروں کشمیری جیلوں میں قید ہیں اور پورے مقبوضہ علاقے میں بھارت کی جابرانہ پالیسیاں اور انسانی حقوق کی سنگین پامالیاں جاری ہیں۔ محمد فاروق رحمانی نے کہا کہ ان حالات میںیہ علاقہ کسی بین الاقوامی تقریب کے انعقاد کیلئے ہرگزموزوں نہیں ہے اور G-20ممالک کو، جو جموں وکشمیر کی سنگین صورتحال سے آگاہ ہیں، بھارت سے گروپ کے سربراہ اجلاس کو کہیں او ر منعقد کرنے کیلئے کہنا چاہیے ۔

دریں اثناء پاسبان حریت کے چیئرمین عزیر احمد غزالی، پیپلز پارٹی کے رہنماء شوکت جاوید میر، عثمان علی ہاشم اور جاوید احمد مغل نے مظفرآباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ مقبول نوجوان رہنما برہان مظفر وانی کا یوم شہادت 08 جولائی کو بھارت کے خلاف یوم مزاحمت کے طور پر منایا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام اپنے شہداء کی قربانیوں کو کبھی رائیگاں نہیں جانے دیں گے اور تحریک آزادی کو اس کے منطقی انجام تک پہنچائیں گے۔

Leave a Reply

%d bloggers like this: