مقبوضہ کشمیرمیں آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنے کی بھارت کی کوشش ایک جنگی جرم ہے

اسلام آباد یکم اگست (کے ایم ایس)
بھارت طویل عرصے سے اپنے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیرکی صورتحال معمول پر آنے کا تاثر دینے اور مقبوضہ علاقے کی آبادی کے تناسب کو بگاڑنے کی مسلسل کوششیں کر رہاہے جوکہ ایک جنگی جرم ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کی طرف سے جاری ایک رپورٹ میں کہاگیاہے کہ بھارت نے گزشتہ سال اپریل میں مقبوضہ علاقے میں نئے ڈومیسائل قوانین متعارف کرائے گئے تھے جس کے بعد سے غیر کشمیری ہندوئوں کو 32لاکھ سے زائد مقبوضہ علاقے کے ڈومیسائل جاری کئے گئے ہیں جس کی تصدیق بھارت کے وزیر برائے ثقافت و سیاحت جی کشن ریڈی نے بھی کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق بھارت نسل کشی کی روک تھام سے متعلق عالمی کنونشل کے آرٹیکل 2 اور چوتھے جنیوا کنونشن کے آرٹیکل 49 کی خلاف ورزی بھی کر رہا ہے جس کے تحت قابض فورسز کو اپنی آبادی کو مقبوضہ علاقے میں منتقل کرنے سے روکا گیا ہے ۔ بھارت کا یہ اقدام دیگر عالمی قوانین کی بھی خلاف ورزی ہے ۔سب سے بڑھ کر رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی غیر قانونی اقدامات اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد کی خلاف ورزی بھی ہیں۔ رپورٹ میں افسوس کا اظہار کیاگیا ہے کہ مقبوضہ کشمیرمیں اسرائیلی طرز پر آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنے کیلئے آبادی کاری کی جارہی ہے ۔ انسانی حقوق کے دو ماہرین فرنینڈ ڈی ویرنس اور یو این ایچ آر سی کے احمد شہید نے بھی مقبوضہ کشمیر میں بی جے پی حکومت کی طرف سے آبادی کے تناسب کو بگاڑنے کیلئے کئے گئے اقدامات پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔رپورٹ کے مطابق نام نہاد حلقہ بندیوں کے عمل کے ذریعے جموں کیلئے پانچ انتخابی نشستوں کا اضافہ جبکہ وادی کشمیر کیلئے صرف ایک نشست آبادی کو تبدیل کرنے کی ایک اور کوشش ہے۔رپورٹ میں مزید کہاگیاہے کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوجیوں، پنڈتوں اور سابق بھارتی سرکاری ملازمین کے لیے بھی خصوصی کالونیاں قائم کی گئی ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

%d bloggers like this: