بلقیس بانو کی اجتماعی عصمت دری کے مجرم رہائی سے قبل ایک ہزاردن تک پیرول پر جیل سے باہر تھے

087dcc06-6504-4a84-896a-28ee1192a8e7نئی دلی 19اکتوبر (کے ایم ایس)
بھارت میں عدالتی دستاویزات میں انکشاف کیا گیا ہے کہ مسلم خاتون بلقیس بانو کے اجتماعی عصمت دری اور اس کے اہل خانہ کے قتل کے جرم میں عمر قید کی سزا کاٹنے والے 11ہندوتوا کارکن رہائی سے قبل ایک ہزار سے زائد دن تک پیرول پر رہا تھے ۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق 2002میں ریاست گجرات میں مسلم مخالف فسادات کے دوران ہندو انتہاپسندوں کی طرف سے اجتماعی عصمت دری اور اپنی 3 سالہ بیٹی سمیت 7 اہلخانہ کے قتل کے وقت بلقیس بانوکی عمر صرف 21برس تھی۔ممبئی کی خصوصی عدالت نے 11ہندوانتہاپسندوں کا جرم ثابت ہونے پر عمر قید کی سزاسنائی تھی اور بمبئی ہائی کورٹ نے اس سزا کو برقراررکھا تھا۔ تاہم عدالتی دستاویزات میں انکشاف کیاگیا ہے ہے کہ عمر قید کی سزاپانے والے مجرموں میں شامل رمیش چندانہ 1576 دنوں تک جیل سے پیرول پر رہاتھا جبکہ دیگر ملزمان بھی 1200سے زائددنوں تک جیل سے پیروم پر رہا تھے ۔ سنٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن اور ایک خصوصی عدالت کی مخالفت کے باوجود اس گھنائونے جرم میں ملوث 11ہندوتوا کارکنوں کی سزائیں معاف کر کے رہاکردیاگیاہے ۔ گجرات حکومت نے ایک حلف نامے میں سپریم کورٹ کو بتایاہے کہ تمام مجرموں کو مودی حکومت کی طرف سے انکی سزائیں معاف کرنے کی وجہ سے رہا کر دیاگیا ہے ۔دستاویزات سے پتہ چلتا ہے کہ وزارت داخلہ نے مجرموں کی رہائی کی منظوری 11جولائی کو دی تھی جس کیلئے ریاستی حکومت نے دو ہفتے پہلے مودی حکومت کو درخواست دی تھی ۔بھارتی سپریم کورٹ مجرموں کی رہائی کے خلاف دائر تین درخواستوںکی سماعت کررہی ہے ۔ دستاویزات سے پتہ چلتا ہے کہ سی بی آئی نے گزشتہ سال ان مجرموں کی قبل از وقت رہائی کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ گھنائونے اور سنگین جرم میں ملوث مجرموں کو رہانہیں کیاجانا چاہیے ۔ ایک خصوصی جج آنند ایل یاولکر نے بھی سنگین جرم میں ملوث مجرموںکی رہائی کی مخالفت کی تھی کیونکہ انکے مطابق یہ جرم ایک خاص مذہب کے لوگوں کو نشانہ بنانے کیلئے کیاگیاتھااوراس معاملے میں، نابالغ بچوں کو بھی نہیں بخشا گیاتھا۔انہوں نے مزیدکہاکہ بلقیس بانوکیس بھارت میں نفرت انگیز اور انسانیت کے خلاف جرائم کی بدترین مثال ہے۔

Leave a Reply

%d bloggers like this: