مودی حکومت کی طرف سے کشمیریوں کی جائیدادیں ضبط کرنا معمول بن چکا ہے، رپورٹ

00اسلام آباد 08 دسمبر (کے ایم ایس) بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں وکشمیر میںمودی کی فسطائی بھارتی حکومت کی طرف سے کشمیریوں کی جائیدادوں کو کسی نہ کسی بہانے ضبط کرنا ایک معمول بن گیا ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کی طرف سے آج جاری کی گئی ایک رپورٹ میں کہا گیا کہ مودی حکومت کشمیریوں کو حق پر مبنی جدوجہد سے دستبردار کرانے کیلئے انکی جائیدادیں ضبط کر رہی ہے۔
رپورٹ میں افسوس کا اظہار کیا گیا کہ مقبوضہ علاقے کے حکام نے کل پلوامہ ضلع کے علاقے کھریو میں ایک بے گناہ کشمیری شخص غلام احمد نجارکے ایک مکان کو غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے کالے قانون ”یو اے پی اے“ کے تحت ضبط کر لیاجبکہ قابض بھارتی حکام نے حال ہی میں مقبوضہ علاقے میں جماعت اسلامی کی 90 کروڑ بھارتی روپے مالیت کی 11 جائیدادیں ضبط کیں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کشمیریوں کی جائیدادیں ضبط کرنا مودی کی ہندوتوا حکومت کی سراسر سیاسی انتقامی کارروائی ہے۔ کشمیریوں کی جائیدادیںضبط کرنے کے علاوہ قابض بھارتی فوج محاصرے اور تلاشی کی کارروائیوںکے دوران انکے مکانوں کو دھماکہ خیز مواد کے ذریعے تباہ کر رہی ہے۔
کے ایم ایس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آر ایس ایس کی حمایت یافتہ مودی حکومت کشمیریوں کو ان کی زمینوں، جائیدادوں اور ملازمتوں اس لیے محروم کررہی ہے تاکہ وہ تحریک آزادی سے کنارہ کشی اختیارکر لیں لیکن انکا جذبہ آزادی توانا و مستحکم ہے اور وہ اپنی جدوجہد کو مقصد کے حصول تک جاری رکھنے کا عزم کیے ہوئے ہیں۔
رپورٹ میںعالمی برادری اور انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں پر زور دیا گیا کہ وہ مقبوضہ علاقے میں مودی حکومت کے وحشیانہ اقدامات کا نوٹس لیں اور دیرینہ تنازعہ کو اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق حل کرائیں۔

Leave a Reply

%d bloggers like this: