جامع مسجد سرینگر میں نماز جمعہ پرمسلسل پابندی کے خلاف لوگوں کے احتجاجی مظاہرے

jamia

سرینگر 15 اکتوبر (کے ایم ایس) غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں مسلمانوں کو ایک بار پھر مرکزی جامع مسجد سرینگر میں نماز جمعہ جیسے اہم فریضے سے روکنے پر لوگوں نے قابض حکام کے خلاف زبردست احتجاجی مظاہرے کئے۔
کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق انجمن اوقاف جامع مسجد سرینگر نے ایک بیان میں کہا کہ آج صبح سویرے سے ہی جامع مسجد سمیت پورے علاقے میں بھارتی فورسز کو بڑے پیمانے پر تعینات کیا گیا تھا۔چنانچہ جب انجمن اوقاف کے ملازمین نے اذان اور نماز کیلئے جامع مسجد کے دروازے کھولے تو بھارتی پولیس نے طاقت کے بل پر انہیں مسجدشریف کے دروازے بند کرنے پر مجبور کردیا۔ فورسز اہلکاروں نے نماز جمعہ کی ادائیگی کیلئے کسی نمازی کومسجد شریف کے اندر جانے کی اجازت نہیں دی ۔ انجمن اوقاف نے کہاکہ قابض حکام کے اس جارحانہ رویے کیخلاف خواتین اور بچوں سمیت نماز کے لئے آ نے والے لوگوں نے زبردست احتجاج اور شدید غم وغصے کا اظہار کیا۔ انجمن اوقات نے کہا کہ قابض حکام کا کورونا وبا کا بہانہ پوری طرح بے نقاب ہوچکا ہے کیونکہ انجمن نے وبا سے بچاﺅ کی غرض سے نمازیوں کے لئے ہرقسم کی احتیاطی تدابیرلازمی قراردی تھیں۔بیان میں کہا گیا کہ طاقت کے بل پر وادی کے مسلمانوں کو مرکزی جامع مسجد میں نماز جمعہ کی ادائیگی سے روکنا نہ صرف انتہائی غم و غصے کا باعث اور تکلیف دہ ہے بلکہ یہ عمل انتہائی افسوسناک اور باعث اضطراب ہے۔ لوگوں نے اس نا انصافی اور مذہبی معاملات میں مداخلت کی شدید مذمت کی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: