بھارت

دہلی فسادات کے تین سال مکمل، سیاسی قیدیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی

نئی دہلی یکم مارچ(کے ایم ایس) معروف سیاسی جماعتوں کے سرکردہ رہنمائوں نے دہلی فسادات 2020سے متعلق مقدمات میں گرفتار کارکنوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔
جنتا دل یونائیٹڈکے ترجمان کے سی تیاگی، کانگریس کے سینئر رہنماسلمان خورشید، رکن پارلیمنٹ اور راشٹریہ جنتا دل کے رہنما منوج کمار جھاہ، سیاسی کارکن یوگیندر یادو، سابق رکن پارلیمنٹ محمد ادیب اور جیل میں نظر بند کارکن خالد سیفی کی اہلیہ نرگس سیفی نے دہلی فسادات کے تین سال مکمل ہونے کے موقع پر نئی دہلی کے پریس کلب میں منعقدہ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کیا ۔ آر جے ڈی کے رکن پارلیمنٹ منوج جھا نے کہا کہ خالد سیفی اور دیگر کارکن اس لیے تکلیف میں ہیں کیونکہ وہ مسلمان ہیں۔انہوں نے کہاکہ میں نے پارلیمنٹ میں ان تمام کارکنوں کے نام لیے۔ یہ ضروری تھا کیونکہ پارلیمنٹ کے ریکارڈ میں ہونا ضروری ہے۔ پریس کانفرنس کا اہتمام” سیٹیزنز کلیکٹو” نے دہلی فسادات کے تین سال مکمل ہونے اورنظربند خالد سیفی اور عمر خالد، شرجیل امام، میران حیدر اور گلفشاں فاطمہ سمیت جیل میں نظر بند دیگر کارکنوں کی حمایت کے لیے کیا تھا۔منوج جھا نے کہاکہ جب مسلمان ظلم و ستم کا نشانہ بنتے ہیں تو سیاسی جماعتیں ان کا نام لینے سے ڈرتی ہیں۔ میں اکثر دیکھتا ہوں کہ لوگ مسلمانوں کا نام لینے سے گریز کرتے ہیں۔ وہ اقلیتوںکا لفظ استعمال کرتے ہیں۔ انہوں نے کہاکھل کر بات کریں کیونکہ یہ مبہم انداز میں بات کرنے کا وقت نہیں ہے۔بھارتی ریاست ہریانہ کے ضلع بھیوانی میں دو مسلمانوںکو آگ لگاکر قتل کرنے کے تازہ ترین واقعے کی مثال دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ لوگ جنید اور ناصر کا نام لینے سے گریز کرتے ہیں جنہیں نام نہاد گائورکھشکوں نے قتل کیا تھا۔انہوں نے کہاکہ اس طرح کے مسائل پر خاموش رہنا اور ہندوتوا کے خلاف نرم رویہ اپنانے سے کام نہیں چلے گا۔سابق بھارتی وزیرسلمان خورشید نے کہا کہ موجودہ حکومت کے خلاف جو جنگ لڑی جا رہی ہے اس میں موجودہ حکومت کے خلاف کھڑے ہونے والوں میں بھی اتحاد کا فقدان ہے۔ انہوں نے کہاکہ جب شہریت ترمیمی ایکٹ، نیشنل رجسٹر آف سٹیزنز کے خلاف مظاہرے ہو رہے تھے اور یہ معاملہ عدالت میں گیا تو ہم تقسیم ہو چکے تھے۔انہوں نے کہاکہ ایک حکمت عملی ہونی چاہیے کہ ان مقدمات کو کیسے لڑا جائے۔ لیکن ہم کوئی حکمت عملی تیار نہیں کر سکے۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے یوگیندر یادو نے کہا کہ خالد سیفی اور عمر خالد بھارت کے مستقبل کے لیڈر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے سیفی کے ساتھ پچھلے دس سالوں میں انسداد بدعنوانی تحریک سے لے کر لنچنگ کے خلاف مظاہروں تک کام کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں محسوس کرتا ہوں کہ جب تک خالد سیفی جیسے لوگ اس ملک میں ہمت اور ایمانداری کے ساتھ ناانصافی کے خلاف کھڑے ہیں، اس ملک میں امید باقی ہے۔یادو نے سیفی کو ایک امن پسند، قانون پسند اور انصاف پسند شہری کے طور پر یاد کرتے ہوئے ان کے خلاف داخل کردہ چارج شیٹ پر بھی تنقید کی اور اسے”پریوں کی کہانیاں”قرار دیا۔خالد سیفی کی اہلیہ نرگس سیفی نے بتایا کہ ان کے شوہر کو پولیس اہلکاروں نے دوران حراست تشدد کا نشانہ بنایا اور عدالت میں جھوٹ بولا کہ سیفی کہیں سے گر کر زخمی ہوا ہے۔

متعلقہ مواد

Leave a Reply

Back to top button
%d