مقبوضہ جموں وکشمیر میں صحافت کوبھارت کے ریاستی جبر کا سامنا ہے: رپورٹ

اسلام آباد 17اکتوبر (کے ایم ایس)غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں صحافت کو بھارت کے ریاستی جبر کا سامنا ہے کیونکہ بھارت نے علاقے میں آزادی صحافت سمیت تمام حقوق چھین رکھے ہیں۔
کشمیر میڈیا سروس کی طرف سے جاری کی گئی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مودی کی زیرقیادت فسطائی بھارتی حکومت نے مقبوضہ علاقے میں صحافت کو مکمل طور پر ایک جرم بنا دیا ہے اور 5 اگست 2019 کے بعد جب بھارت نے مقبوضہ جموں وکشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کردی اورعلاقے میں فوجی محاصرہ نافذ کردیا، بھارتی فورسز کی طرف سے صحافیوں کو ہراساں کرنے اور دھمکیاں دینے کے واقعات میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے ۔رپورٹ میں افسوس کا اظہار کیاگیا کہ صحافیوں کو علاقے میں روزانہ کی بنیاد پر قتل ، اقدام قتل ، گرفتاریوں ، دھمکیوں اور انتقامی کارروائیوںکا سامنا کرنا پڑتاہے اور دفعہ370کی منسوخی کے بعد مقبوضہ جموں وکشمیر میں بہت سے صحافیوں کو گرفتار کیا گیا ، تشدد کا نشانہ بنایا اورہراساں کیا گیا ،یہاں تک کہ ان کے خلاف کالے قوانین کے تحت تحقیقات شروع کی گئی۔رپورٹ میں کہا گیا کہ مقبوضہ علاقے میں صحافیوں کو ہراساں کرنا ، ان کے گھروں اور دفاتر پرچھاپے مارنا اور پوچھ گچھ کرنا ایک معمول بن چکا ہے اور 2020 میں نام نہاد میڈیا پالیسی متعارف کئے جانے کے بعد بھارت نے علاقے میں صحافت کو تقریبا ناممکن بنا دیا ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارت مقبوضہ جموں وکشمیر میں پریس کو دبانے کے لیے مختلف ہتھکنڈے استعمال کر رہا ہے اورعلاقے میں صحافیوں کو انتہائی مشکل حالات میں کام کرنا پڑتا ہے۔رپورٹ میں کہاگیاہے کہ نیو یارک میں قائم صحافیوں کی عالمی تنظیم ”کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس“نے بھارت پر زور دیا ہے کہ وہ مقبوضہ علاقے میں میڈیا کو آزادانہ طور پر کام کرنے کی اجازت دے۔ کمیٹی نے بھارت سے مطالبہ کیا کہ وہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں صحافیوں کو ہراساں اورگرفتارکرنے کے اپنے شرمناک ریکارڈ کو بہتر بنائے۔کمیٹی نے افسوس کا اظہار کیا کہ بھارت مقبوضہ جموںوکشمیر میں صحافیوں کو سچ کی رپورٹنگ کرنے پر ہراساں کر رہا ہے ،ان سے پوچھ گچھ کر رہا ہے اوران کے خلاف مقدمات قائم کر رہا ہے کیونکہ وہ صحافت کو جرم بنارکردنیاسے مقبوضہ جموںوکشمیرکے زمینی حقائق چھپانا چاہتا ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ فسطائی مودی حکومت مقبوضہ جموں وکشمیر میں ذرائع ابلاغ کا گلا گھونٹنے کے لیے ظالمانہ ہتھکنڈے استعمال کر رہی ہے اور عالمی برادری کو مقبوضہ علاقے میں آزاد صحافت کو بچانے کے لیے آگے آنا چاہیے جبکہ مقبوضہ علاقے میں صحافت پر حملہ میڈیا کے بین الاقوامی اداروں کے لئے لمحہ فکر ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: