بھارت

ہندو ٹیچر کے حکم پر تشدد کا نشانہ بننے والے مسلم طالبعلم کی شناخت ظاہر کرنے پر صحافی محمد زبیر کیخلاف مقدمہ درج

لکھنو :
بھارتی ریاست اترپردیش کے ضلع مظفر نگر میں پیر کو پولیس نے ہندو ٹیچرکے حکم پرایک مسلم طالب علم کو تھپڑ مارنے کے واقعے کے متاثرہ طالب علم کی شناخت ظاہر کرنے پر آلٹ نیوز کے شریک بانی محمد زبیر کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے ۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق 24اگست کو مظفر نگر کے نیہا پبلک اسکول میں ہندو ٹیچرترپتا تیاگی نے اسلام کے خلاف شدید زہر افشانی کرتے ہوئے دوسری جماعت کے ہندو طلباء ایک مسلم طالب علم کو تھپڑ رمارنے کا حکم دیدیاتھا۔ اس واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی تھی اور بعدازاں ہندو ٹیچر نے اپنے اس اقدام پر شرمندہ ہونے سے انکار کردیاتھا۔محمد زبیر کے خلا ف وشنودت نامی ایک شہری کی جانب سے دائر شکایت پر جوینائل جسٹس ایکٹ کی دفعہ 74 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے،جس کے تحت جرم کے شکار یا گواہ کی شناخت ظاہر کرناجرم ہے۔اس واقعے کی ویڈیو سب سے پہلے ویڈیو محمد زبیر نے ہی سوشل میڈیا پر پوسٹ کی تھی ۔بعدازاں بچے کی شناخت ظاہر کرنے پر مقدمہ درج کرلیاگیا ہے ۔ مقدمے میں انہیں متاثرہ نابالغ بچے کی شناخت ظاہر کرنے پر نامزد کیاگیا ہے ۔زبیر کے خلاف درج ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ صحافی نے واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر شیئر کرکے لڑکے کی شناخت ظاہر کی تھی۔
ادھر متاثرہ مسلم طالب علم کو اس واقعے کے بعد شدید صدمے کا شکار ہونے پر گزشتہ روز میڈیکل چیک اپ کیلئے میرٹھ لے جایاگیاتھا۔

متعلقہ مواد

Leave a Reply

Back to top button
%d