بھارت نے 2019میں دھوکہ دہی کا ایک نیا باب رقم کیا، رشید ترابی

کراچی:سابق امیر جماعت اسلامی آزادجموں وکشمیر عبدالرشید ترابی نے کہاہے کہ 5 اگست 2019 کو بھارت نے آئینی دہشت گردی کی اور مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر کے بددیانتی اور دھوکہ دہی کا ایک نیا باب رقم کیا۔کشمیر میڈیاسروس کے مطابق عبدالرشید ترابی نے کراچی پریس کلب میں صحافیوں سے گفتگو کے دوران کہا کہ 70 سال سے زائد عرصے سے کشمیری اپنی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ بھارت نے 27 اکتوبر 1947کے بعد 2019 میں ایک اور سنگین وار کیا اور کشمیریوں کو انکی شناخت اور تہذیب و تمدن سے محروم کرنے کی کوشش کی۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری بھارتی سازشوں اور ریشہ دوانیوں کا بہادری سے مقابلہ کر رہے ہیں اور ان کی آزادی کی جدوجہد جاری ہے ۔ انہوںنے کہا کہ حریت رہنماﺅں سمیت ہزاروں کشمیری اس وقت بھارتی جیلوں میں بند ہیں جن میں کئی خواتین بھی شامل ہیں۔ عبدالرشید ترابی نے کہا کہ پاکستان کے آپریشن بنیان المرصوص کی کامیابی اور حکومت پاکستان کے مضبوط بیانیہ سے تحریک آزادی کشمیر مزید مضبوط اور توانا ہوئی ہے۔سابق امیر جماعت اسلامی آزاد کشمیر نے کہا کہ شہدا کی قربانیوں سے کشمیریوں کی تحریک زندہ و تابندہ ہے۔اس موقع پر سیکرٹری کراچی پریس کلب سہیل افضل خان، خازن عمران ایوب،جوائنٹ سیکرٹری محمدمنصف، گورننگ باڈی کے ارکان مونا صدیقی،قاضی یاسر،محمدفاروق،پی ایف یوجے دستور کے سیکرٹری اے ایچ خانزادہ، کراچی یونین آف جرنلسٹس (دستور) کے صدر نصراللہ چوہدری سمیت صحافیوں کی ایک بڑی تعداد موجود تھی
کشمیری رہنما رہنما نذیر قریشی نے اس موقع پر سفارتی محاذ پر ہونی والی سرگرمیوں کے بارے میں آگاہ کیا۔انہوں نے بتایا کہ برطانیہ سمیت دنیا کے مختلف ممالک اور فورمز پر مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنے کی کوششیں جاری ہیں اور جب تک بھارت کا ایک بھی فوجی کشمیر میں موجود رہے گا یہ جدوجہد جاری رہے گی۔






