سی آر پی ایف نیا کیمپ قائم کرنے کے لیے ممنوعہ زبرون پہاڑیوں میں1300 کنال اراضی پرقبضہ کررہی ہے

سرینگر:غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیرمیں بھارتی پیرا ملٹری سینٹرل ریزرو پولیس فورس ایک نیا کیمپ قائم کرنے کے لیے ماحولیاتی طور پرنازک سرینگر کی زبرون پہاڑیوں کے ممنوعہ علاقے میں سینکڑوں کنال اراضی پر قبضہ کر رہی ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق گزشتہ سال 24جون کو سی آر پی ایف حکام اور سرینگر کی ضلعی انتظامیہ کے درمیان ایک میٹنگ ہوئی تھی جس کے بعد برین میں 1,324کنال اراضی کی نشاندہی کی گئی تھی تاکہ اس پر بٹالین ہیڈکوارٹر تعمیر کیا جاسکے۔اس کے بعد8جولائی 2024کوسی آر پی ایف کی 79ویں بٹالین کے کمانڈنٹ کشور کمار نے ڈپٹی کمشنر سرینگر کو خط لکھا جس میں اراضی کا ریونیو ریکارڈ طلب کیا گیاتاکہ اس کے مطابق نشاندہی کی کارروائی کی جائے اورسڑک تعمیر کی جاسکے۔مقامی باشندوں نے نقل مکانی اور اپنے ذریعہ معاش کی تباہی کے خدشات کے باعث نیشنل گرین ٹربیونل سے رجوع کیا ہے جو بھارت میں ماحولیاتی تحفظ اور دیگر قدرتی وسائل سے متعلق مقدمات کو تیزی سے نمٹا نے کا ایک قانونی ادارہ ہے ۔ انہوں نے خبردار کیا کہ یہ اقدام ماحولیاتی قوانین کی خلاف ورزی ہے اور سرینگر کے آس پاس آخری گرین بیلٹ کو تباہ کر دے گا۔ ماہرین ماحولیات نے خبردار کیا ہے کہ گرین بیلٹ کو ملٹری کمپلیکس میں تبدیل کرنے سے ہمالیہ کے نازک ماحولیاتی نظام کو ناقابل تلافی نقصان پہنچے گا۔اپنی درخواست میں برین کے رہائشیوں نے کہاکہ سی آر پی ایف کی 61ویں، 79ویں، 117ویں اور 132ویں بٹالین کے قیام کے لیے زمین کو خالی کرنے کے لیے 50,000سے زیادہ درختوں کو کاٹا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ جموں وکشمیر کی انتظامیہ داچھی گام نیشنل پارک کے علاقے کے اندر تعمیرات پر قانونی پابندیوں کے باوجود اس منصوبے میں سہولت فراہم کر رہی ہے جو وائلڈ لائف پروٹیکشن ایکٹ (1972)، نیشنل فارسٹ پالیسی (1988)اور سرینگر ماسٹر پلان-2035کے تحت محفوظ علاقہ ہے۔سرکردہ درخواست گزار غلام محی الدین شاہ نے جو زبرون کے دامن میں پھیلے ہوئے کئی علاقوں کے 49خاندانوں کی نمائندگی کرتے ہیں، ٹریبونل کو بتایا کہ اس منصوبے سے ماحولیات کو ناقابل تلافی نقصان ہوگا۔ایک اور درخواست گزار محمد رمضان حافظ نے کہا کہ سی آر پی ایف نے شروع میں 124کنال مانگی تھی لیکن بعد میں 1,324کنال کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہاکہ حکومت سی آر پی ایف کے لیے کہیں اور زمین تلاش کر سکتی ہے۔ جنگلات اور نازک ماحولیاتی نظام کو کیوں تباہ کیا جارہا ہے؟ اگر یہ پالیسیاں جاری رہیں تو ہماری جنت جہنم میں بدل جائے گی۔ 24 نومبر کو سماعت کے لیے مقرر درخواست میں کہاگیاہے کہ اس منصوبے کو کلیئر کرنے سے پہلے ماحولیاتی اثرات کا خیال نہیں رکھا گیا۔ماحولیاتی کارکن راجہ مظفر بٹ نے خبردارکیاکہ ماحولیاتی لحاظ سے اس طرح کے حساس علاقے میں کنکریٹ ملٹری کمپلیکس کی تعمیر سے جنگلی حیات کو خطرہ لاحق ہو جائے گا اور موسمیاتی تبدیلیوں کے لیے خطے کے خطرات میں مزید اضافہ ہو جائے گا۔ سول سوسائٹی کی تنظیم” گروپ آف کنسرنڈ سٹیزنز ”نے بھی جسمیں سابق افسران اور بیوروکریٹس شامل ہیں، حکام پر زور دیا ہے کہ وہ اس فیصلے پر نظر ثانی کریں۔مقبوضہ جموں وکشمیر میں محکمہ جنگلات کے ایک ریٹائرڈ کنزرویٹر منظور احمد ٹاک نے زور دیا کہ یہ جگہ قانونی طور پر”گرین زون”کے اندر ہے اور اس کی تبدیلی سرینگر ماسٹر پلان کی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس منصوبے کی اجازت دینا ماحولیاتی تباہی کا باعث بنے گا۔ماحولیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اقدام ایک بڑی سازش کا حصہ ہے کیونکہ مقبوضہ جموں وکشمیرمیں تعینات 10 لاکھ سے ز ائد بھارتی فوجیوں نے حفاظتی تنصیبات کے بہانے جنگلات ، زرعی اراضی اور نجی املاک سمیت ہزاروں کنال اراضی پر پہلے ہی غیر قانونی طور پر قبضہ کر رکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ زبرون کی زمینوں پر قبضہ مقبوضہ علاقے کی ماحولیات اور اس کے لوگوں کے حقوق کی قیمت پر علاقے کو ایک فوجی علاقے میں تبدیل کرنے کی بھارتی حکومت کی جابرانہ پالیسی کی عکاسی کرتا ہے۔





