ترکی نے ایک بار پھرتنازعہ کشمیر پربھارت کو تنقید کا نشانہ بنایا
انقرہ: ترک وزیر خارجہ ہاکن فدان نے ترک پارلیمنٹ کی منصوبہ بندی و بجٹ کمیٹی میں 2026کی وزارت خارجہ کا بجٹ پیش کرتے ہوئے ایک بارپھر تنازعہ کشمیر اٹھایا۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق ہاکن فدان نے انقرہ کے دیرینہ موقف کا اعادہ کیاجو پاکستان کا موقف بھی ہے کہ بھارت کو تنازعہ کشمیرپاکستان کے ساتھ بات چیت کے ذریعے اور بین الاقوامی قانون کے مطابق حل کرنا ہوگا۔ صدر رجب طیب اردوان 2019کے بعد اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے ہر اجلاس میںتنازعہ کشمیر اٹھارہے ہیں۔ اردوان نے بھارت پر زوردیا کہ وہ تنازعہ کشمیرکو مستقل طور پرحل کریں ، انہوں نے خطے میں مسلمانوں کے خلاف انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی طرف توجہ دلائی۔2002میں اقتدار میں آنے کے بعد سے رجب طیب اردوان اور ان کی جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی نے کشمیر کی حمایت میں آواز بلند کرنے کے لئے عالمی پلیٹ فارم کو استعمال کیا اور ترکی کو دنیا بھر میںمسلمانوں کا دفاع کرنے والے ملک کے طور پر پیش کیا ہے۔ ترکی نے کشمیر ، فلسطین اور اسلامو فوبیا جیسے امور کو اجاگر کرکے مسلم اکثریتی ممالک میں اپنی سفارتی رسائی اور اثر و رسوخ کو بھی بڑھایا ہے ،۔انقرہ کا مذہبی ادارہ” دیانت ”بھی بیرون ملک ترکی کا موقف پیش کررہا ہے، جس سے تنازعہ کشمیر سمیت عالمی سطح پر مسلمانوں کے معاملات میں ترکی کی اہمیت کو تقویت ملی ہے۔ رجب طیب اردوان کی طرف سے تنازعہ کشمیر کو باربار اجاگرکرنے سے متنازعہ علاقے میں بھارت کی پالیسیوں کے خلاف ترکی سفارتی پیغام رسانی کی عکاسی ہوتی ہے۔






