بھارت : اترپردیش کے گائوں میں مسلمانوں کو علاقہ خالی کرنے کی دھمکیاں،علاقے میں خوف و ہراس

لکھنو: بھارتی ریاست اتر پردیش میں سکندر آباد کے ملحقہ علاقے بھونکھیرا میں مسلمانوںنے نئے سال کا آغاز دھمکی آمیز پمفلٹس کے ساتھ کیاجن میں ان سے گائوں خالی نہ کرنے کی صورت میں زندہ جلادینے کی دھمکیاں دی گئیں۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق اس واقعے کے بعد گائوں کے مسلمانوں میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔ ہندی میں ٹائپ کئے گئے ان پمفلٹس میں مسلمان خاندانوں کو دھمکی دی گئی ہے کہ وہ 24گھنٹوں کے اندر گائوں خالی کر دیں ورنہ انہیں زندہ جلا دیا جائے گا۔ ان پمفلٹس میں مسلمانوں کے لیے توہین آمیز الفاظ استعمال کئے گئے ہیں اور ان پر کٹر سناتنی وکرم کے فرضی نام سے دستخط تھے۔گائوں کے ایک رہائشی ساجد علی کو یکم جنوری کی صبح یہ نوٹ ملا جب وہ فجر کی نماز ادا کرنے کے لیے مسجد جا رہے تھے۔ ساجد علی نے بتایا کہ اس دن ہم میں سے زیادہ تر لوگ گھروں کے اندر ہی رہے، یہ سوچ کر کہ کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ اس دھمکی آمیز پیغام نے ایک پرامن بستی کو ہائی الرٹ زون میں تبدیل کردیا ہے۔ بھونکھیرا میں تقریبا 15مسلم خاندان رہائش پذیر ہیں جو گزشتہ چھ نسلوں سے گائوں کی ہندو اکثریت کے ساتھ پرامن طور پر رہ رہے ہیں۔ مقامی وکیل محمد حنیف نے جو اس سلسلے میں رہائشیوں کی مدد کر رہے ہیں، اس واقعے کو براہِ راست اور سنگین خطرہ قرار دیا جس کا مقصد دہائیوں پر محیط فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو پارہ پارہ کرنا ہے۔ رپورٹس کے مطابق سکندر آباد پولیس اسٹیشن میںنامعلوم افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کر لی گئی، تاہم ابھی تک کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی ہے۔ان دھمکیوں سے گائوں کے مسلم خاندانوں کی زندگیوں پر گہرے اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اب خاندان کا ایک رکن پہرہ دینے کے لیے رات بھر جاگتارہتا ہے۔ اسکول میں کھانا پکانے والی ایک مسلمان خاتون ہاجرہ نے بتایا کہ وہ اب اپنی حفاظت کے ڈر سے کام ختم ہوتے ہی فورا گھر بھاگتی ہیں۔ مقامی انسپکٹر کا دعوی ہے کہ علاقے میں گشت بڑھا دیا گیا ہے اور صورتحال پرامن ہے، لیکن رہائشی ٹھوس اقدامات اور تحفظ کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ دھمکی آمیز پمفلٹس موصول ہونے کے باوجود مسلمانوں کا کہنا ہے کہ ان کا اپنے آبائی گھر چھوڑنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔







