جموں کا قتل عام جدید تاریخ کے سیاہ ترین ابواب میں سے ایک ہے،صدر مملکت
پاکستان جدوجہد آزادی میں کشمیریوں کے ساتھ کھڑا ہے، ”یوم شہدائے جموں “پرپیغام

اسلام آباد: صدر مملکت آصف علی زرداری نے” شہدائے جموں“ کو شاندار خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کشمیری عوام کی مکمل اخلاقی، سفارتی اور سیاسی حمایت جاری رکھے گا اور ہم ان کے انصاف، وقار اور آزادی کی جدوجہد میں ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔ کشمیر میڈیاسروس کے مطابق ایوان صدر کے پریس ونگ سے جاری بیان میں کہا گیا کہ صدر مملکت نے ”یوم شہدائے جموں“ کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا کہ اس مقدس دن پر پاکستان جموں کے شہداکو خراج عقیدت پیش کرتا ہے اور جموں و کشمیر کے لوگوں کے حق خود ارادیت کی منصفانہ جدوجہد میں ان کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کرتا ہے۔صدر مملکت نے کہا کہ ہم بین الاقوامی برادری اور اقوام متحدہ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ جموں کے قتل عام کو نسل کشی کے طور پر تسلیم کریں اور جنیوا کنونشنز کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بھارت کے غیر قانونی طور پر زیر تسلط جموں و کشمیرکی آبادیاتی ساخت کو تبدیل کرنے کی کوششوں سمیت بین الاقوامی قانون کی مسلسل خلاف ورزیوں کے لیے بھارت کو جوابدہ ٹھہرائیں۔ انہوں نے کہا کہ 1947ءمیں ہندو ڈوگرہ مہاراجہ کی افواج نے آر ایس ایس کے انتہا پسندوں اور پٹیالہ اور کپورتھلہ کے مسلح گروہوں کی مدد سے برصغیر کی تاریخ کا ایک بدترین قتل عام کیا۔صدر مملکت نے کہا کہ جموں کے قتل عام کے دوران 2 لاکھ سے زیادہ مسلمان شہید کئے گئے اور 5 لاکھ سے زیادہ سیالکوٹ کے آس پاس کے علاقوں میں جانیں بچاکر ہجرت پر مجبور ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ چند ہی ہفتوں میں 6 نومبر 1947ئ کے سانحہ نے جموں کی آبادی کو ہمیشہ کے لیے بدل کر رکھ دیا اور منظم نسلی کشی کے ذریعے ایک مسلم اکثریتی خطہ کو اقلیت میں تبدیل کردیا گیا۔ صدر مملکت نے کہا کہ جموں کا قتل عام جدید تاریخ کے سیاہ ترین ابواب میں سے ایک ہے، جہاں دنیا دیگر عظیم انسانی المیوں کو یاد رکھتی ہے وہیں 1947میں کشمیری مسلمانوں کی نسل کشی کو کبھی بھی وہ پذیرائی نہیں ملی جس کی وہ مستحق تھی۔
انہوں نے کہا کہ سات دہائیاں گزرنے کے بعد بھی جبر کا انداز برقرار ہے، ڈوگرہ حکمران اور آر ایس ایس کے انتہا پسندوں کی جانب سے ریاستی سرپرستی میں قتل وغارت کی مہم کے طور پر جو کچھ شروع ہوا وہ بھارتی ریاست کے ذریعے منظم آبادیاتی انجینئرنگ میں تبدیل ہوگیا ہے۔ صدر مملکت نے کہا کہ اگست 2019ءمیں آرٹیکل 370 اور 35 اے کی منسوخی، زمینوں پر قبضہ، غیر مقامی لوگوں کی آمد اور کشمیری شناخت پر پابندیاں جموں و کشمیر کے مسلم کردار کو مٹانے کے ایک ہی منصوبے کا حصہ ہیں۔انہوں نے کہا کہ بھارت کے غیر قانونی طور پر زیر تسلط جموں و کشمیرمیں تقریباً 10 لاکھ بھارتی فوجیوں کی تعیناتی کے ساتھ جاری قبضے نے اس خطے کو دنیا کے سب سے زیادہ عسکری زون میں تبدیل کردیا ہے، دنیا کو کشمیریوں کی ایک اور نسل کو ظلم و ستم، نقل مکانی اور بے دخلی کا سامنا کرنے سے نظریں نہیں چرانا چاہیے۔ صدر مملکت نے کہا کہ پاکستان جموں کے شہدا کو خراج عقیدت پیش کرتا ہے اور جموں و کشمیر کے لوگوں کے حق خود ارادیت کی منصفانہ جدوجہد میں ان کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کرتا ہے، پاکستان کشمیری عوام کی مکمل اخلاقی، سفارتی اور سیاسی حمایت جاری رکھے گا اور ہم ان کے انصاف، وقار اور آزادی کی جدوجہد میں ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔KMS-02/M








