جنیوا

جنیوا: شمیم شال کا مقبوضہ کشمیرمیں زراعت سے وابستہ خواتین پر موسمیاتی تبدیلوں کے منفی اثرات پر اظہار تشویش

جنیوا: کشمیری رہنما شمیم شال نے بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر میں زراعت، باغبانی وغیرہ سے وابستہ خواتین پر موسمیاتی تبدیلی کے منفی اثرات پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق شمیم شال نے ان خیالات کا ظہار جنیوا میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے 63ویں اجلاس کے سائیڈ لائنز پر منعقدہ ایک مباحثے کے دوران کیا۔ مباحثے میں موسمیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے خواتین کے کردار کا جائزہ لیا گیا۔شمیم شال نے کہا کہ ماحولیاتی تبدیلیاں دیہی اور پہاڑی علاقوں کی خواتین پر اضافی معاشی اور سماجی دبا ڈال سکتی ہیں، جہاں قدرتی وسائل تک رسائی کا براہِ راست تعلق گھریلو روزگار اور غذائی تحفظ سے ہوتا ہے۔انہوںنے مقبوضہ جموں وکشمیر میں بڑ ے پیمانے پر فوجی تعیناتی کے ماحولیاتی اثرات سے متعلق خدشات کی جانب بھی توجہ مبذول کرائی، جن میں پہاڑی علاقے کے نازک ماحولیاتی نظام میں فوجی کارروائیوں فائرنگ ، گولہ باری وغیرہ کے اثرات شامل ہیں۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ ماگلیشیئرز کے تیزی سے پگھلنے اور دیگر موسمیاتی تبدیلیوں سے مقامی برادریوں کے لیے مزید چیلنجز پیدا ہو رہے ہیں۔انہوں نے زور دیا کہ موسمیاتی پالیسیاں اور تکنیکی حل وضع کرتے وقت تنازعات سے متاثرہ اور ماحولیاتی اعتبار سے حساس علاقوں میں رہنے والی خواتین کے مسائل اور مشکلات کو مدنظر رکھا جاناچاہیے۔شمیم شال نے خواتین کے حقوق، ماحولیاتی تحفظ اور تنازعات کے باہمی تعلق پر مزید توجہ دینے کا مطالبہ کیا اور اس بات پر زور دیا کہ منصفانہ تبدیلیوں کے عمل میں متاثرہ برادریوں کی خواتین کو شامل کیا جائے اور انہیں درپیش مخصوص چیلنجز کا ٧حل تلاش کیا جائے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button