گجرات : گائو رکھشکوںکا مسلم بیوپاریوں پرحملہ ، وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا

نئی دلی:گائو رکھشکوںکے ایک گروپ نے مویشیوں کے تین مسلم بیوپاریوں پر حملہ کرکے انہیں وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق 19فروری کو اوڈھو کے علاقے میں پیش آنے والے واقعے میں گائو رکھشکوں کے ایک گروپ نے گجرات کے احمد آباد شہر میں اپنے مویشی جانوروں کی منڈی لے جانے والے مسلم بیوپاری کو وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا ہے ۔ تینوں بیوپاری اپنے مویشی منڈی لے کر جارہے تھے کہ 20سے 25ہندوبلوائیوں کے ایک گروپ نے انہیں روک کر تشدد کا نشانہ بنایا جس سے اسحاق شدید زخمی ہوگیا اور وہ ہسپتال میں زیر علاج ہے۔متاثرہ بیوپاری محمد فاروق ،مشرف احمد اور اسحاق واقعے کا مقدمہ درج کرانے کی کوشش کرر ہے ہیں تاہم پولیس ان کی درخواست پر کوئی نوٹس نہیں لے رہی ہے ۔ سوشل میڈیا پر سخت تنقید کے بعد پولیس نے مجبورا مقدمہ درج کیا ہے ۔ میڈیا سے بات کرتے ہوئے ایڈووکیٹ نعمان، جو متاثرین کے کیس کی پیروی کر رہے ہیں، نے کہا کہ سوشل میڈیا پر بڑے غم و غصے کے بعد ہی متاثرین کی شکایت پر دفعہ 307 کے تحت ایف آئی آر درج کی گئی۔حملے کے بارے میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے، زخمی مشرف نے بتایاکہ جب وہ اپنے مویشی منڈی لے کر جا رہے تھے تو ہندوتوا بلوائیوں کے ایک گروپ نے انہیں روکا اور انہیں لاٹھیوں سے وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا جس سے اس کا بھائی اسحاق زخمی ہو گیا۔بلوائیواں نے ان سے ڈیڑھ لاکھ روپے کامطالبہ بھی کیا ۔





