معصوم شہریوں کے خون کے آخری قطرے تک کا مکمل حساب لیا جائے گا، پاک فوج
بزدلانہ بھارتی حملوں میں 31 شہری شہید اور 57 زخمی
راولپنڈی: ڈی جی ”آئی ایس پی آر“ لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ بھارت اپنی پراکسیز کے ذریعے دہشت گردی کو فروغ دے رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ معصوم شہریوں کے ناحق خون کے اخری قطرے تک کا مکمل حساب لیا جائے گا۔
کشمیر میڈیاسروس کے مطابق ڈی جی آئی ایس پی آر نے اپنی خصوصی پریس بریفنگ میں کہا کہ 6 اور 7 مئی کی شب بھارت نے معصوم شہریوں اور بچوں کو نشانہ بنایا یہ دہشت گردی نہیں تو اور کیا ہے، یہ معصوم بچے جنہوں نے ابھی زندگی کی بہاریں دیکھنی تھیں، کیا یہ ہیں وہ دہشت گرد جن کو بھارت نے 6 اور 7 مئی کی شب نشانہ بنایا۔انہوں نے کہا کہ یہ ثابت ہوچکا ہے کہ بین الملکی دہشت گردی اور قتل کی وارداتوں میں ملوث ہے اور یہ بات دنیا کے سامنے شواہد کے ساتھ ثابت ہوچکی ہے۔ بھارتی فوج نے پاکستان میں مختلف مقامات پر مساجد کو نشانہ بنایا اور قران پاک شہید کیے ، وہ کون سا مذہب ہے جو دوسرے مذاہب کی عبادت گاہوں اور ان کی مقدس کتابوں کو شہید اور بے حرمتی کرنے کی اجازت دیتا ہے۔انہوںنے کہا کہ پاکستان کی شہری آبادی پر بھارتی فورسز کے حملوں میں 31 شہری شہید اور 57 زخمی ہوئے۔انہوںنے کہا کہ پاکستانی افواج نے بھارتی جارحیت کے جواب میں فوجی اہداف کو چ±نا نہ کہ بھارت کی طرح بچوں کو نشانہ بنایا اور یہ وہ فوجی اہداف تھے جن کا مقصد پاکستان کی خودمختاری اور اس کے شہریوں کو نشانہ بنانا تھا۔ڈی جی نے کہا کہ پاکستانی ایئرفورس کے طیاروں نے تین رافیل، ایک ایس یو 30 اور ایک مگ 29 تباہ کردیے اور ان طیاروں کو نشانہ بنایا گیا کہ جو ہتھیار ( میزائل ) گرا کر بھاگ رہے تھے ، ہمیں اپنی ایئرفورس پر فخر ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ بھارت کی جانب سے کنٹرول لائن پر بلااشتعال فائرنگ اور جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کا سلسلہ جاری ہے جس کا ہماری فوج بہت موثر طریقے سے جواب دے رہی ہیں، اور دشمن کی متعدد پوسٹوں کو تباہ بھی کیا جا چکا ہے۔لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا نے کہا کہ اب تک کوئی پاکستانی سپاہی شہید نہیں ہوا اور نہ ہی ایئرفورس کے کسی طیارے کو نقصان پہنچا۔انہوںنے کہ اکہ جب بھارت نے حملہ کیا تو اس وقت 57 پروازیں پاکستان کی فضائی حدود میں تھیں اور ان میں سوار سیکڑوں ہزاروں مسافروں کی زندگیوں کو بھی بھارت نے خطرے میں ڈال دیا۔انہوں نے کہا کہ بھارت نے نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پروجیکٹ کو بھی گولہ باری سے نقصان پہنچایا، یہ اقدام جنیوا کنونشن کے آرٹیکل 54 اور 56 کی صریحاً خلاف ورزی تھی۔انہوں نے کہا کہ ہم اپنے اس عزم کا اعادہ کرتے ہیں کہ ہماری امن کی شدید خواہش کو کبھی بھی کمزوری نہ سمجھا جائے، کیونکہ اپنے عوام کے تحفظ پر، اپنی زمین کے تحفظ پر افواج پاکستان کبھی کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی۔








