بھارت

بھارت : احتجاج کو روکنے کے لئے یو پی میں ائمہ مساجد کوحلفناموں پر دستخط کرنے پر مجبور کیاجارہا ہے

نئی دہلی: بھارت میں بی جے پی کے زیر اقتدار ریاست اترپردیش میں پولیس نے ائمہ مساجد اور مسلم کمیٹی کے ارکان کو نوٹس جاری کرنا شروع کر دیا ہے اور انہیں وقف ترمیمی بل کے خلاف احتجاج سے روکنے کے لئے حلفناموں پر دستخط کرنے پر مجبور کیاجارہا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق نوئیڈا میں پولیس نے متعدد ائمہ مساجدسے رابطہ کیا اور ان سے 50ہزار روپے کے بانڈز پر دستخط کرنے کے لئے کہا گیا کہ وہ نہ احتجاجی مظاہروں میں شرکت کریں گے اور نہ کسی کو ان میں شرکت کے لئے بھڑکائیں گے۔ نوئیڈا کے ایک امام مسجدمولانا شمس الدین نے اس اقدام کو ہراساں کرنا قرار دیتے ہوئے کہاکیا اب پرامن احتجاج کرنا غیر قانونی ہے؟ جب ہمارے حقوق خطرے میں ہوں تو کیا ہمیں بولنے کی بھی اجازت نہیں ہے؟ ۔نوئیڈا میں ایک سینئر پولیس افسر ڈی سی پی ہریش چندر نے اس اقدام کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ احتیاطی اقدام کے طور پرہم نے امن و امان کو یقینی بنانے کے لیے مذہبی رہنمائوں کو نوٹس جاری کیے ہیں۔انہوں نے کہاکہ یہ بانڈز احتیاطی اقدامات ہیں، سزا دینے کے لئے نہیں۔لکھنو کے ایک وکیل اور سماجی کارکن فیضان خان نے سوال اٹھایا کہ صرف مساجد اورمسلمانوں کو کیوں نشانہ بنایا جارہا ہے؟ انہوں نے کہاکہ آئین احتجاج کے حق کی ضمانت دیتا ہے لیکن جب مسلمان احتجاج کرتے ہیں تو اسے خطرہ قراردیا جاتا ہے۔رپورٹس میں کہاگیا ہے کہ لکھنو، کانپور، غازی آباد اور دیگر قصبوں کی مساجد کو بھی اسی طرح کے نوٹس جاری کئے گئے ہیں۔ کئی مقامات پر ائمہ مساجد کو پولیس اسٹیشنوں میں طلب کیا گیا اورخبردارکیاگیا کہ وہ کسی بھی احتجاجی مظاہرے کی حوصلہ افزائی سے باز رہیں۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button